وفاقی کابینہ کا کورونا کے حفاظتی اقدامات خصوصاً ماسک کے استعمال اور دیگر ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور ، ملک میں کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ کے رجحان پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):وفاقی کابینہ نے ملک میں کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے بہترین حکمت عملی سے کورونا کی وبا کا مقابلہ کیا جس کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے تاہم قوم کو وباءکی دوسری لہر کے پیش نظر انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان …

اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):وفاقی کابینہ نے ملک میں کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے بہترین حکمت عملی سے کورونا کی وبا کا مقابلہ کیا جس کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے تاہم قوم کو وباءکی دوسری لہر کے پیش نظر انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق کابینہ کو بتایا گیا کہ رواں ماہ سامنے آنے والے کیسز کی تعداد میں جولائی اگست کے مقابلے میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ کورونا مثبت کی شرح دو فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ اموات کی تعداد جو کہ جولائی اور اگست میں ایک ہندسے میں تھیں وہ اب دو ہندسوں میں ہو گئی ہیں۔ کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ حفاظتی اقدامات خصوصاً ماسک کا استعمال اور دیگر ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سیّد امین الحق نے متحدہ قومی موومنٹ کے عہدہ داران کی جانب سے وزیرِ اعظم کوویڈ ریلیف فنڈ کے لئے 1,033,933 روپے کا چیک پیش کیا۔ کابینہ کو ملک میں گندم کے موجود ذخائر اور مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر درآمد کی جانے والی گندم کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو مختلف صوبوں کی جانب سے سرکاری گندم کی ریلیز کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے سترہ سے بیس ہزار ٹن یومیہ گندم ریلیز کی جا رہی ہے جسے پچیس ہزار ٹن تک بڑھایا جا رہا ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے بیس سے اکتیس اکتوبر تک پچاسی ہزار ٹن گندم ریلیز کی جا رہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ فلور ملوں پر طلب کے مطابق گندم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اسی طرح صوبہ سندھ کی جانب سے بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ فلور ملوں کو ان کی ضروریات کے مطابق گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں نہ صرف گندم کی وافر دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ قیمتوں کو بھی قابو میں رکھا جائے گا اور اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اجلاس کو ملک میں موجود چینی کے ذخائر، درآمد کی صورتحال اور قیمت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ چینی سے متعلق واجد ضیا کی رپورٹ کے بعد فزیکل ویریفیکیشن کا عمل شروع کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اوسطاً ماہانہ دو سے اڑھائی لاکھ ٹن چینی کی کھپت میں اچانک کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی کی ضروریات کے پیش نظر فوری طور پر درآمد کا فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ 20 دنوں میں کرشنگ سیزن کا آغاز ہو جائے گا۔ کرشنگ سیزن میں تاخیر پر پچاس لاکھ یومیہ جرمانہ کیا جائے گا۔ اس حوالے سے حکومت پنجاب نے قانون میں ترمیم کر لی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ چند دنوں میں دو لاکھ ٹن چینی ملک میں پہنچ جائے گی۔ وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ گندم اور چینی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ اگلی کابینہ اجلاس میں پیش کی جائے اس رپورٹ میں گندم اور چینی کی قیمتوں، ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ دیگر تمام عوامل کا بھی جائزہ پیش کیا جائے گا۔ کابینہ نے گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کی عارضی مینجمنٹ کمیٹی کی منظوری بھی دی۔ کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے 7 اکتوبر 2020 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ کابینہ نے سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی (لمیٹڈ) کو وزارتِ منصوبہ بندی، ڈویلپمنٹ اور خصوصی اقدامات کے تحت رکھنے کی منظوری بھی دی۔ کابینہ نے سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے کے اضافی چارج کی مدت توسیع کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 14 اکتوبر 2020 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ کابینہ نے98 نئے اووسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر لائسنس کے اجرائ، 18 لائسنس واپس لئے جانے، 10 کے ٹرانسفر جبکہ 5 لائسنسوں کے دائرہ کارمیں تبدیلی کی تجویز کی منظوری دی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 15 اکتوبر 2020 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی منظوری بھی دی۔ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 19 اکتوبر 2020 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 15 اکتوبر 2020 کے اجلاس میں فرنس آئل کی طلب کو پورا کرنے کے حوالے سے لئے گئے فیصلے کی توثیق کی گئی۔