اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان سے حزب اسلامی افغانستان کے رہنما گلبدین حکمت یار نے منگل کو یہاں اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں افغان امن عمل اور پاک افغان دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے گلبدین حکمت یار کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تاریخی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ وزیراعظم نے …
بین الافغان مزاکرات سے افغانستان میں دیرپا امن کا تاریخی موقع پیدا ہوا ہے، وزیراعظم عمران خان کی سربراہ حزب اسلامی افغانستان گلبدین حکمت یار سے ملاقات میں گفتگو
اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان سے حزب اسلامی افغانستان کے رہنما گلبدین حکمت یار نے منگل کو یہاں اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں افغان امن عمل اور پاک افغان دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے گلبدین حکمت یار کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تاریخی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان کے لئے افغانستان کے عوام کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور افغانستان کے ساتھ قریبی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام خطے میں افغانستان کے بعد سب سے زیادہ پاکستان کے لئے فائدہ مند ہوگا۔ انہوں نے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ افغانستان کے مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ افغانوں کی قیادت میں امن عمل ہی اس ضمن میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بین الافغان مزاکرات سے افغانستان میں دیرپا امن کا تاریخی موقع پیدا ہوا ہے۔ افغان امن عمل میں پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ افغان فریقین مسئلے کے لئے مشترکہ، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل کے لئے مل کر کام کریں گے۔ وزیراعظم نے افغانستان کے اندر اور باہر سے افغان امن عمل کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار عناصر کے کردار کے بارے میں خبردار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت، ٹرانزٹ اور رابطہ کاری کے وسیع امکانات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی جانب سے افغانستان میں تعمیر نو، اقتصادی ترقی اور افغان مہاجرین کی باعزت واپسی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پاکستان عوامی سطح پر رابطوں، افغان سرمایہ کاری کے فروغ، انسانی وسائل کی ترقی اور بالخصوص صحت و تعلیم جیسے شعبوں میں افغانوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے معاونت جاری رکھے گا۔ اس موقع پر گلبدین حکمت یار نے افغان امن عمل میں سہولت کے لئے پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے افغانستان کی سماجی و معاشی ترقی میں دیرینہ معاونت اور چار دہائیوں سے زائد عرصہ سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔\









