پی ٹی آئی کے مرکزی نائب صدر اورپی ٹی آئی کراچی کے صدرکی مشترکہ پریس کانفرنس

کراچی۔20اکتوبر (اے پی پی):پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی نائب صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ وزیر اعلی نے زبردست قسم کی بیان بازی کی ہے، وزیر اعلی صاحب انویسٹیگیٹو آفیسر بن گئے،جلسے میں صحافیوں کی پٹائی ہوئی موبائل فون چوری ہوئے، وزیر اعلی جہاں آپ کا جلسہ ہوگا وہاں بندہ اپنی جیب بھی بچائے گا، وزیر اعلی نے مان لیا کہ غلط کام ہوا،وہ آپ …

کراچی۔20اکتوبر (اے پی پی):پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی نائب صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ وزیر اعلی نے زبردست قسم کی بیان بازی کی ہے، وزیر اعلی صاحب انویسٹیگیٹو آفیسر بن گئے،جلسے میں صحافیوں کی پٹائی ہوئی موبائل فون چوری ہوئے، وزیر اعلی جہاں آپ کا جلسہ ہوگا وہاں بندہ اپنی جیب بھی بچائے گا، وزیر اعلی نے مان لیا کہ غلط کام ہوا،وہ آپ کے مہمان تھے آپ کے سندھ میں سرکار آپ کی ہے آپ ایف آئی آر کاٹ دیتے تو اچھا ہوتا،قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کی حرمت کا معاملہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو سندھ اسمبلی بلڈنگ میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان، اراکین اسمبلی جمال صدیقی، علی عزیز جی جی، ملک شہزاد، شاہنواز جدون، ارسلان گھمن، ریاض حیدر، کریم بخش گبول، ادیبا و دیگر بھی شریک تھے۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ میں سلام پیش کرتا ہوں تحریک انصاف کے ورکر کو وزیر اعلی آپ فیل ہو گئے،کیا آپ نے نوگو ایریا بنایا تھا، مریم نواز کے منہ سے بلاول بھائی نکلنا ختم نہیں ہو رہا تھا ،بلاول بھٹو نے مریم نواز کا تقریر میں نام بھی نہیں لیا،کل جو آپ کے لوگ نواز شریف کے پیروکار ہماری فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کر رہے تھے،کیا آئی جی سندھ دوچیز ہے جو کوئی اسے اٹھا کر لے جائے گا،ایف آئی آر کیوں کٹی،ہم سب تھانے پر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وقاص احمد خان جس کو آپ بڑا دہشت گرد قرار دے رہے ہو شکر ہے آپ نے مان تو لیا کہ میرے بھانجے پر آپ نے کیس کروا رکھا تھا، وقاص احمد خان میرا بھانجا اور تحریک انصاف کا ورکر ہے،وقاص احمد خان اور اس کے دوستوں نے صفدر اعوان کو روکنے کی کوشش کی جس پر اسے دھمکی دی گئی، مریم بی بی دال میں کچھ کالا ہے،تین درخواست دی گئی تھیں ان پر کارروائی کیوں نہیں ہوئی، یہ پہلی ضمانت ہے جس کا اعلان مجسٹریٹ کے بجائے مریم نواز نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اربوں روپے کی کرپشن کر کے لندن بیٹھا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیر اعلی کی حرمت قائد اعظم کے مزار سے زیادہ ہے؟آپ معاف کرو یا نہ کرو، ہم نہیں کریں گے، صفدر اعوان جتنی بار آ گے اتنی بار کراچی کی عوام سے ٹھڈے کھائیں گے، کمیٹی بنا دی گئی ہے جس میں سعید غنی ہونگے، سعید غنی پر ایس پی ڈاکٹر رضوان کی منشیات کی رپورٹ ہے، امتیاز شیخ شامل ہونگے،شرجیل انعام میمن جس پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ اس کمیٹی میں شامل ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی، اسپیشل برانچ کو شامل کیا جائے، جے آئی ٹی بنائی جائے، دیکھا جائے کہ یہ مزار پر کیوں گیا،دیکھا جائے اس نے مزار کی توہین کس کے کہنے پر یا را کے کہنے پر کی جندال کہ کہنے پر کی، اس بے حرمتی کا دودھ کا دودھ اور پانی ہونا چاہیے۔پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں خرم شیر زمان نے کہا کہ انہوں نے ہمیں رمضان میں مسجد میں نماز پڑھنے نہیں دی اور اب یہ جلسے کر رہے ہیں۔ یہ جلسے کرنے سے ایک دن قبل تک بازار، ریسٹورینٹ، سکول سیل کر رہے تھے۔اس صوبے میں پینے کا پانی نہیں ہے، ایک ہسپتال ہے جو کرپشن سے بھرا پڑا ہے،یہ پیسہ عوام کا پیسہ ہے،کورونا وائرس کے دوران ہسپتال کروڑ پتی بن گئے،یہ ہسپتال عوام کو ایک پیراسٹمول تک نہیں دیتے،12 سال میں سندھ میں صحت کا نظام نہیں دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ محمد زبیر کے بیان پر خاموش ہیں،ہمت ہے تو کھل کر سامنے آئے،ہم نے تو یہ موقف رکھا تھا کہ قائد اعظم منیجمنٹ بورڈ نے جو درخواست دی ہے اس پر ایف آئی آر کاٹ دیں۔خرم شیر زمان نے کہا کہ اچکزئی کی اردو زبان پر بیان کی مذمت کرتا ہوں،آج وزیر اعلی نے جب پریس کانفرنس کی تب انہوں نے ماسک پہنا ہوا تھا،ان کے قول اور فعل میں تضاد ہے، بسوں میں لوگوں کو بھر بھر کر لائے،60 سے 70 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ،کورونا وائرس کے کیسز بڑھے گے تو وزیر اعلی پر ایف آئی آر کٹوائی جائے گی۔