اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):کشمیر کے یوم سیاہ کے موقع پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے ایک بین الاقوامی تقریری مقابلے کا انعقاد اسلام آبادمیں ہوا۔ اس ورچوئل تقریری مقابلے کا انعقاد وزارت اُمور کشمیر و گلگت بلتستان ،وزارت خارجہ اور انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک اسٹڈیز نے باہمی اشتراک سے کیا جس میں دُنیا …
کشمیر کے یوم سیاہ کے حوالے سے ایک بین الاقوامی تقریری مقابلے کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):کشمیر کے یوم سیاہ کے موقع پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے ایک بین الاقوامی تقریری مقابلے کا انعقاد اسلام آبادمیں ہوا۔ اس ورچوئل تقریری مقابلے کا انعقاد وزارت اُمور کشمیر و گلگت بلتستان ،وزارت خارجہ اور انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک اسٹڈیز نے باہمی اشتراک سے کیا جس میں دُنیا بھر کی اہم یونیورسٹیز کے 29 طلبا نے بھرپور شرکت کی اور مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی پامالی اور اس کے خطے کی سلامتی پر اثرات سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس بین الاقوامی تقریری مقابلے کی افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پورنے اس تقریری مقابلے کے شرکاءکو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ایسے تقریری مقابلوں سے درست اندازہ اور اس ا مر کا بہتراندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی دُنیا اور بین الاقوامی عوامی رائے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حالات سے متعلق کس قدر روشناس ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ یہ تقریری مقابلہ 27 اکتوبر یوم سیاہ کشمیر کے تناظر میں کرایا جارہا ہے جو کہ کشمیر کی تاریخ کا سیا ہ ترین دن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس دن بھارتی افواج نے تمام تر عالمی قوانین اور تقسیم ہند کے تمام طے شدہ اُصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر پر فوج کشی کی اور اپنا غیر قانونی قبضہ قائم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس دن سے لے کر آج تک کشمیریوں کو بدترین تشد د کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،انہوںنے کہاکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر اپنے ناجائز تسلط کو مزید سخت کرنے کے لیے بھارت نے پچھلے سال 5 اگست کو انتہائی قابل مذمت اقدامات اٹھائے گا۔وفاقی وزیر نے کہاکہ وزیرا عظم عمران خان نے بطور کشمیریوں کے وکیل اور سفیر کشمیریوں کے حقوق کو بھرپور انداز میں اُجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر اُن کی کشمیر سے متعلق پالیسی اور وژن کی کھلی عکاسی کرتی ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر بھرپور سپورٹ کو سراہا۔ تقریری مقابلے میں 29 مقررین نے شرکت کی جن میں سے 18 مقررین کا تعلق 16 بیرون ممالک سے تھا جبکہ پاکستان اور آزادکشمیر کی مختلف یونیورسٹیوں سے 11 مقررین نے بھی ان مقابلوں میں حصہ لیا ۔اس تقریری مقابلے میں طلباءوطالبات نے مسئلہ کشمیرپر اپنے خیالات کا اظہار کرتے اسے انسانی حقوق کا سنگین بحران قرار دیا اور عالمی اور علاقائی امن کے حوالے سے اس دیرینہ مسلےءکے حل کی اہمیت کو اجاگرکیا۔ بین الاقوامی ورچوئل تقریری مقابلوں کے بہترین مقررین کے انتخاب کے لئے لیفٹننٹ جنرل(ر) طلعت مسعود، ڈاکٹر عمیمہ کامران اور ڈاکٹر صائمہ اے کیانی پر مشتمل تین رکنی جیوری مقرر کی گئی تھی جنہوں نے تفصیلی غوروخوض کے بعد اول دوئم اور سوئم پوزیشنیں حاصل کرنے والوں کے ناموں کا اعلان کیا۔ سعودی عرب کے ریاض سکول انٹر نیشنل کی مقرر عمیمہ تنویر اول قرار پائیں، ترکی کی انقرہ یونیورسٹی کی مقرر نیسبی یساس یلدریم نے دوسری پوزیشن حاصل کی، تیسری پوزیشن پر دو مقرر کامیاب ہوئے ان میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایڈن برگ کے مقرر ارقم الحدید اور نمل یونیورسٹی کے مقرر محمد عبداللہ شامل ہیں۔ تقریب کے اختتام پر وفاقی سیکرٹری امور کشمیراعجاز احمد خان نے تقریری مقابلوں میں حصہ لینے والے شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کامیاب امیدواروں کے لئے تعریفی اسناد اور انعامات کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مقابلے دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے حوصلہ افزا ہیں، مستقبل میں بھی اس طرح کے مقابلوں کا نعقاد کیا جائے گا تاکہ کشمیریوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کے لئے رائے عامہ کو ہموار کیا جا سکے۔








