وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کی اصولی منظوری دے دی، ترجمان وزارت قانون وانصاف

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کی اصولی منظوری دے دی ۔ منگل کو وزیر اعظم عمران خان سے وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر محمد فروغ نسیم نے اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں عدالت عظمی کے احکامات کی روشنی میں احتساب اور صنفی تشدد کے حوالے سے ملک بھر …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کی اصولی منظوری دے دی ۔ منگل کو وزیر اعظم عمران خان سے وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر محمد فروغ نسیم نے اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں عدالت عظمی کے احکامات کی روشنی میں احتساب اور صنفی تشدد کے حوالے سے ملک بھر میں نئی عدالتوں کے قیام سے متعلق تجاویز پیش کیں۔وفاقی وزارت قانون انصاف ڈویژن کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا کہ مالی مشکلات کے پیش نظر پہلے مرحلے میں 30 نئی احتساب عدالتیں تشکیل دی جائیں گی جبکہ باقی عدالتوں کا قیام مقدمات کے دبا ئوکو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار عمل میں لایا جائے گا۔وزارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے خزانہ ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ نئی احتساب عدالتوں کے قیام کے حوالے سے درکار فنڈز ، بھرتیوں اور انسانی حقوق سے متعلق معاملات میں وزارت قانون و انصاف ڈویژن کو ہر قسم کی معاونت فراہم کی جائے۔مزید برآں قانون وانصاف کی پارلیمانی سیکرٹری بیرسٹر ملائیکہ بخاری نے وزیراعظم عمران خان کو صنفی تشدد کے جرائم کے مقدمات چلانے کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ان عدالتوں میں خواتین اور بچوں کے ساتھ ساتھی اور صنفی تشدد پر مبنی مقدمات چلائے جائیں گے۔ وزیراعظم نے وزارت قانون و انصاف کے اقدام کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اس حوالے سے متعلقہ فریقین سے مشاورت اور قوانین میں ترمیم کے ذریعے ملک بھر میں ”سپیشل جینڈر بیسڈ وائلنس کورٹس“ کا قیام عمل میں لایا جائے۔

مزید خبریں