اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) وزیرِداخلہ کی زیرِصدارت جمعہ کو یہاں نادرا بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں نادرا حکام کی جانب سے 45لاکھ ماہانہ کرائے پر بلڈنگ حاصل کرنے پر وزیر داخلہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ بلڈنگ کااٹھارہ ماہ کا کرایہ بھی ایڈوانس ادا کر دیا گیاہے جبکہ بلڈنگ کی تزئین و آرائش پر دس کروڑ کا تخمینہ …
وزیرِداخلہ چوہدری نثار کی زیرِصدارت نادرا بورڈ کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) وزیرِداخلہ کی زیرِصدارت جمعہ کو یہاں نادرا بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں نادرا حکام کی جانب سے 45لاکھ ماہانہ کرائے پر بلڈنگ حاصل کرنے پر وزیر داخلہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ بلڈنگ کااٹھارہ ماہ کا کرایہ بھی ایڈوانس ادا کر دیا گیاہے جبکہ بلڈنگ کی تزئین و آرائش پر دس کروڑ کا تخمینہ لگایا گیاہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایف آئی اے کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کرائے کی بلڈنگ کے معاملے پر ایف آئی اے نادرا اور نیسپاک کے حکام کے خلاف ایک ہفتے میں انکوائری مکمل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے اس بات کی تحقیقات کرے کہ کیا نادرا کو واقعی اس مہنگی بلڈنگ کی ضرورت تھی اور کیا اس عمارت کا کوئی ایسا متبادل نہیں تھا جس پر کم لاگت آتی ہو؟نادرا میں مالی بدنظمی کی موثر روک تھام یقینی بنانے بنانے کے لئے چیئرمین نادرا سے مالی صوابدیدی اختیارات واپس لے کر نادرا بورڈ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مالی اختیارات کے حوالے سے واضح پالیسی مرتب کی جائے جس میں مالی اختیارات کا واضح تعین ہو جبکہ انہوں نے مالی اختیارات کے تعین کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا حکم بھی دیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ عوام کا ایک ایک پیسہ امانت ہے جس کا غلط استعمال روکا جائے گا بلکہ اس کا صحیح استعمال بھی یقینی بنایا جائے گا۔








