نیب کی انسداد بدعنوانی سے متعلق آگاہی و تدارک کی پالیسی کو عالمی اقتصادی فورم اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سراہا ہے ، قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت جائزہ اجلاس

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کی انسداد بدعنوانی سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی و تدارک کی پالیسی کو عالمی اقتصادی فورم اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سراہا ہے، نیب کی 2019ءمیں لوگوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہی کی پالیسی کامیاب رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب کی آگاہی و …

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کی انسداد بدعنوانی سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی و تدارک کی پالیسی کو عالمی اقتصادی فورم اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سراہا ہے، نیب کی 2019ءمیں لوگوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہی کی پالیسی کامیاب رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب کی آگاہی و تدارک سے متعلق حکمت عملی کے حوالہ سے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب حسن اصغر، پراسیکیوٹر جنرل اکائونٹیبلٹی سیّد اصغر حیدر، ڈی جی آپریشن ظاہر شاہ اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کی انسداد بدعنوانی سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی و تدارک کی پالیسی کو عالمی اقتصادی فورم اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سراہا ہے جو کہ نیب کی کوششوں سے پاکستان کیلئے قابل فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب، نیب آرڈیننس 1999ءکے سیکشن 33 سی کے تحت بدعنوانی کے خلاف آگاہی اور تدارک کے اختیارات رکھتا ہے، نیب کی 2019ءمیں لوگوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہی کی پالیسی کامیاب رہی ہے، نیب نے مختلف این جی اوز، میڈیا، سول سوسائٹی اور معاشرہ کے دیگر طبقات سے مل کر عوام بالخصوص نوجوانوں کو اوائل عمری میں بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے آگاہی مہم چلائی ہے۔ نیب کی آگاہی اور تدارک کی کوششوں کو نیب کے میڈیا ونگ نے مفت اور موثر انداز میں پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے اجاگر کیا ہے جس کو معاشرہ کے تمام طبقات نے سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ نے بدعنوانی کی روک تھام، اشتہاریوں اور عدالتی مفروروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 363 ارب روپے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔ نیب کی جانب سے برآمد کی گئی رقوم ہزاروں متاثرین اور مختلف سرکاری محکموں کو واپس کی گئی ہیں، نیب افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان سے کرپشن کے مکمل خاتمہ کیلئے ”احتساب سب کیلئے“ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے نیب میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے اور اس کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ نیب کی موثر آگاہی اور تدارک کی پالیسی کو پلڈاٹ، مشال پاکستان، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور عالمی اقتصادی فورم جیسے معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے سراہا ہے جبکہ گیلپ اور گیلانی سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں جو کہ نیب کی بہترین کارکردگی پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔ نیب نے بدعنوان عناصر کے خلاف بدعنوانی کی شکایات سننے کیلئے اپنے دروازے کھول دیئے ہیں جس کے باعث نیب کو گذشتہ سال کے مقابلہ میں 2020ءمیں دگنا شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے متعلقہ اداروں میں خامیوں کی شناخت اور ان کے حل سے متعلق معاملات کو نمٹانے کیلئے پریونشن کمیٹیاں قائم کی ہیں تاکہ عوام کے مسائل کے حل کیلئے ان کی خدمات کے طریقہ کار میں بہتری لائی جا سکے، یہ حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔ نیب کی کوششوں کے باعث مختلف سرکاری اداروں کے درمیان روابط اور سی ڈی اے اور آئی سی ٹی کے ون ونڈو آپریشنز میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، نیب نے نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کی کردار سازی سے متعلق انجمنوں کے قیام کے نتائج شاندار رہے ہیں۔ ملک بھر میں 50 ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں جن کے تسلسل سے اجلاس ہوتے ہیں اور وہ یونیورسٹی اور کالجوں میں نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم اب یہ جان چکی ہے کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی ماں ہے اور اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین نیب نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے عزم کا اعادہ کیا اور امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریقوں کی اجتماعی کوششوں سے کرپشن فری پاکستان کو عملی تعبیر دی جا سکتی ہے۔