سیاسی مخالفین نے گلگت بلتستان الیکشن میں قبل از وقت ہی اپنی شکست تسلیم کرلی ہے، وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید کا سکردو میں جلسہ سے خطاب

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ سیاسی مخالفین نے گلگت بلتستان الیکشن میں قبل از وقت ہی اپنی شکست تسلیم کرلی ہے، پیپلز پارٹی نے عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی سے متعلق اپنے منشور پر آج تک عمل نہیں کیا، وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اعلان کیا، گلگت بلتستان کے شہریوں کے …

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ سیاسی مخالفین نے گلگت بلتستان الیکشن میں قبل از وقت ہی اپنی شکست تسلیم کرلی ہے، پیپلز پارٹی نے عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی سے متعلق اپنے منشور پر آج تک عمل نہیں کیا، وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اعلان کیا، گلگت بلتستان کے شہریوں کے لئے صحت انصاف کارڈ کی منظوری دی جا چکی ہے، اب گلگت بلتستان کے عوام صحت انصاف کارڈ کی بدولت سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی ہسپتالوں سے بھی علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے، وزیراعظم قوم سے لوٹی ہوئی دولت کو واپس لائیں گے، آئینی حقوق کی فراہمی اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا دیرینہ مطالبہ تھا جو عمران خان نے پورا کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سکردو میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور اور پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مراد سعید نے کہا کہ جلسہ میں موجود عوام کی بڑی تعداد نے 15 تاریخ سے پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے 15 تاریخ سے پہلے ہی اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔ دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مطالبہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا تھا، گلگت بلتستان کے لوگوں نے ہمیشہ کہا کہ ہمیں آئینی حقوق دیئے جائیں، کیا ان لوگوں نے آپ کو آئینی حقوق دیئے۔ انہوں نے کہا کہ کیا گلگت بلتستان کو مفت اور بہترین علاج معالجہ کی سہولیات انہوں نے دیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو سی پیک میں بھی نظر انداز کیا گیا، کوئی بڑا منصوبہ گلگت بلتستان کے لئے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام کہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے لئے یونیورسٹی، میڈیکل کالج کی سہولت نہیں ہے، کیا ان لوگوں نے ان مسائل کے حل کے لئے کوئی اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں صاف پینے کے پانی کی سہولت نہیں ہے، اس کے لئے ان لوگوں نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ یہ دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں لیکن ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہاں شکست ان کا مقدر بن چکی ہے۔ مراد سعید نے کہا کہ یہاں کے عوام کا بڑا مطالبہ آئینی حقوق اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا تھا۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک میں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا، سی پیک کا آغاز گلگت بلتستان کو اکنامک زون دے دیا گیا ہے۔ یہاں انڈسٹریل زون نہیں تھا، وزیراعظم عمران خان نے یہاں کے عوام کا یہ مطالبہ بھی پورا کر دیا ہے، زمین کا تعین بھی ہوگیا ہے، یہاں کارخانے بنیں گے، انڈسٹریاں لگیں گی اور لوگوں کو روزگار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ بابو سر ٹاپ سال میں آٹھ مہینے تک برف باری کی وجہ سے بند رہتا ہے، اس کی فزیبلٹی پر کام شروع ہو چکا ہے، انشاءاﷲ آئندہ سال سے بابو سر ٹاپ سال کے بارہ مہینے تک کھلا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ قراقرم ہائی وے کو بہتر بنایا جا رہا ہے، سی پیک کے ثمرات گلگت بلتستان کو تب ملیں گے جب اس علاقے کو شاہراہ سے منسلک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وزارت نے ان منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شامل کر دیا ہے، ان منصوبوں کو تعمیر کریں گے۔ گلگت بلتستان سے گوادر تک سفر کو آسان بنایا جائے گا اس حوالے سے منصوبہ کو شامل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں دکاندار، تنخواہ دار اور مزدور بھی موجود ہیں، وہ بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں کہ جب ان کے گھر بیماری آتی ہے تو ان پر کتنا کٹھن وقت گذرتا ہے۔ ہم نے خیبر پختونخوا میں بھی علاج معالجہ کی بہتر سہولیات فراہم کی ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کے لئے وزیراعظم عمران خان نے صحت انصاف کارڈ کی منظوری دے دی ہے جس میں ساڑھے سات لاکھ روپے تک علاج کرانے کی سہولت میسر ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص کسی بھی ہسپتال میں مفت علاج کی سہولت حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ غربت سندھ میں ہے، سب سے زیادہ لوٹ مار بھی سندھ میں ہے اور اب یہ لوگ گلگت بلتستان میں ڈاکہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں ہماری حکومت قائم ہوئی تو وہاں پر بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا گیا، ہائیڈرو پاور منصوبے شروع کئے گئے انشاءاﷲ ہم گلگت بلتستان میں بھی بنیادی سہولتوں کو بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لئے ہائیڈرو پاور منصوبے پر آغاز ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہماری حکومت نے سیاحت کے فروغ کے لئے بھی بہت سے اقدامات اٹھائے، تیس لاکھ سے زائد لوگوں کو روزگار کے مواقع ملے، معیشت کا پہیہ چلا۔ گلگت بلتستان ایک خوبصورت علاقہ ہے، یہاں سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں، یہاں ہم سیاحت کو فروغ دیں گے جس سے یہاں کے مقامی لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت گلگت میں سیاحت، تعلیم، سڑکوں کی ابتر صورتحال سمیت بجلی اور دریا کے کنارے لوگوں کو پانی کی سہولت تک میسر نہیں۔ انشاءاﷲ گلگت بلتستان کے یہ بنیادی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب قومی دولت لوٹنے والوں کا احتساب کرتے ہیں تو یہ لوگ این آر او کا رونا روتے ہیں۔ انہوں نے گلگت بلتستان سے کہا کہ آپ نے 15 نومبر سے پہلے ہی پی ٹی آئی کو فتح کی نوید سنا دی ہے، ہم اقتدار میں آ کر یہاں سے لوٹی گئی رقم کا بھی حساب لیں گے۔