احسا س کے تحت اصلاح شد ہ وسیلہ تعلیم پروگرام کے تحت ملک بھر میں توسیع، ڈیجیٹل نظام کا قیام اور بچیوں کیلئے وظائف کی رقم میں اضافہ کیا گیا ہے ، ثانیہ نشتر

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احسا س کے تحت اصلاح شد ہ وسیلہ تعلیم پروگرام کے ملک گیر اجرا ء کی تفصیلات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پروگرام کے تحت ملک بھر میں توسیع، ڈیجیٹل نظام کا قیام اور بچیوں کیلئے وظائف کی رقم میں اضافہ کیا گیا ہے ۔تخفیف غربت و …

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احسا س کے تحت اصلاح شد ہ وسیلہ تعلیم پروگرام کے ملک گیر اجرا ء کی تفصیلات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پروگرام کے تحت ملک بھر میں توسیع، ڈیجیٹل نظام کا قیام اور بچیوں کیلئے وظائف کی رقم میں اضافہ کیا گیا ہے ۔تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعظم کو ان کے دورہ بلوچستان کے دوران وسیلہ تعلیم پروگرام کے تحت پرائمری سکول جانے والے بچوں کیلئے احساس تعلیمی وظائف کے ملک گیر اجراء کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی ۔ وزیر اعظم بچوں اور ان کے والدین کے ہمراہ وسیلہ تعلیم پروگرام میں مستحق بچوں کے اندراج کا جائزہ لیں گے ۔ احساس کے تحت وسیلہ تعلیم پروگرام میں حالیہ اصلاحات کے بارے میں بریفنگ کے بعد وزیر اعظم بچیوں کے ڈیجیٹل نظام میں اندراج اوربچے کی ماں کو دی جانے والی رقم کی تفصیلات بھی ملاحظہ کریں گے ۔ پاکستان سال 2012سے منتخب کردہ اضلاع میں وسیلہ تعلیم کے نام سے پرائمری سکول جانے والے بچوں کیلئے مشروط مالی معاونت پر مبنی تعلیمی پروگرام چلارہا ہے ۔ اب اس پروگرام کے دائرہ کار کو بڑھا کر ملک بھر میں وسعت دی جارہی ہے جو کہ ایک بڑی تبدیلی کی جانب نشاندہی ہے ۔ماضی میں اس پروگرام کو متعدد مسائل کا سامنا تھا جن میں انتظامی اخراجات، تعمیل کی نگرانی کا کمزور نظام، وظیفہ کی کم رقم اور کمپیوٹرائزڈ نظام کی عدم دستیابی کے باعث غلطی اور دھوکہ دہی شامل تھے ۔ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ، پروگرام میں جامع اصلاحات کی گئیں جس کے نتیجے میں دور رس تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔ یہ اصلاحات چار اہم ستونوں پر مبنی ہیں۔ اول پروگرام کو ڈیجیٹل اصولوں پر استوار کرنا ،جو پہلے دستی طور پر منظم کیا جاتا تھا ۔ ایپس تیار کی گئی ہیں جن کے ذریعہ عملے کے افراد بچوں کا اندراج کریں گے اور اس عمل کی باقاعدہ نگرانی کی جائے گی ۔دوئم اس پروگرام کو ملک بھر میں وسعت دینے کیلئے ادارہ جاتی انفراسٹرکچر تیار کیاگیا ہے جس سے اخراجات میں کمی واقع ہوگی ۔ اس کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں پر انحصار ختم کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے آپریشنل لاگت8 فیصد سے کم ہوکر 3فیصد رہ گئی ہے۔ سوئم احساس کی نئی وظیفہ پالیسی کے مطابق بچوں کو دیئے جانے والے وظاءف میں ترمیم کی گئی ہے ۔ غریب گھرانوں کے بچوں کو 70فیصد حاضری کے حصول پر بچے کیلئے 1500;47روپے جبکہ بچی کیلئے 2000;47روپے فی سہ ماہی مقرر کیا گیا ہے ۔چہارم سب سے اہم یہ کہ ملک بھر کے تمام اضلاع میں اس پروگرام کے دائرہ کار کو بڑھایا جارہا ہے ۔مشروط مالی معاونت کا تعلیمی پروگرام احساس کا ایک اہم ستون ہے اور اسے احساس فریم ورک میں پالیسی نمبر 73ایجوکیشن کنڈینشل کیش ٹرانسفر کے طور پر شامل کیا گیا ہے ۔ مشروط مالی معاونت پر مبنی پروگرام ایک طرف سماجی طور پر پسماندہ گھرانوں کی مدد کرنے کے مقصد کی تکمیل کرتا ہے اور دوسری طرف سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کو بھی کم کرتا ہے جو پاکستان کیلئے بہت اہم ہے ، اس وقت ملک کے 19;46;1ملین بچے سکول جانے سے قاصر ہیں ۔رواں سال کا مجموعی بجٹ 8ارب روپے ہے ۔مجموعی طور پر احساس کے تحت جنوبی بلوچستان کے اضلاع واشک، خاران، چاغی، مستونگ، خضدار، لسبیلہ، آوران، پنجگور، تربت اور گوادر کو شامل کیا گیا ہے ۔ 31جنوری 2021تک دو نئی پناہ گاہیں ایک لسبیلہ انڈسٹریل زون اور دوسری گوادر اکنامک زون میں کھولی جائیں گی ۔ 31دسمبر 2020تک خاران اور تربت میں دو نئے یتیم خانے قائم کئے جائیں گے ۔ احساس آمدن پروگرام میں جنوبی بلوچستان کے دو نئے اضلاع لسبیلہ اور گوادر کوشامل کیا جارہا ہے ۔ احساس بلاسود قرضوں کے پروگرام کے تحت 4نئے اضلاع گوادر، پنجگور، آوران اورکیچ کو شامل کیا جارہا ہے ۔ احساس کفالت پروگرام میں جنوبی بلوچستان میں مستفید ہونے والوں کی تعداد آئندہ 4ماہ کے دوران 38,604 سے بڑھ کر 62,152 ہونے کا امکان ہے ۔خاران اور خضدار میں احساس نشوونما پروگرام متعارف کرایا جارہا ہے ۔ ان دو اضلاع میں کل 6,625 مستحقین کا اندراج کیا جائےگا اور انہیں نقد وظیفہ (بچی کیلئے 2000روپے اور بچے کیلئے 1500روپے فی سہ ماہی )کیساتھ ساتھ بچوں میں اسٹنٹگ روکنے کیلئے خصوصی غذائیت سے بھر پور کھانا فراہم کیا جائیگا ۔ احساس انڈرگریجویٹ سکالرشپ پروگرام کے تحت سال 2019-20 میں بلوچستان کے تقریبا 3000مستحق اور ہونہار طلبہ کو وظاءف دیئے گئے ہیں ۔ ضلع تربت میں 654انڈرگریجویٹ سکالرشپ دیئے گئے ۔واشک، مستونگ اور قلات کے علاوہ، احساس سروے مکمل ہوچکا ہے ۔ سروے کے بعد ہر تحصیل میں احساس رجسٹریشن ڈیسک قائم کئے جارہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ سروے میں رہ جانے والے گھرانے خود آکر اپنا اندارج کروالیں ۔ تربت کی ہر تحصیل میں ڈیسک رجسٹریشن کے تحت اندراج جاری ہے اور اگلے تین ماہ میں دیگر اضلاع میں بھی ڈیسک قائم کئے جارہے ہیں ۔کویڈ19کے دوران احساس ایمرجنسی کیش کے تحت جنوبی بلوچستان کے 10اضلاع میں 233,254 مستحقین میں 2;46;824ارب روپے تقسیم کئے گئے ۔