اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کا ایک ذریعے ہے، سی پیک نا صرف پاکستان بلکہ پورے وسطی اور جنوبی ایشیا میں رابطوں کو آگے بڑھائے گا،اس منصوبے سے چین اور پاکستان کے علاؤہ ایران، افغانستان، بھارت، وسطی ایشائی ریاستیں اور خطے کے دیگر ممالک مستفید ہوں گے، پاکستان خطے میں امن،ترقی …
سی پیک پورے وسطی اور جنوبی ایشیا میں رابطوں کو آگے بڑھائے گا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کا ایک ذریعے ہے، سی پیک نا صرف پاکستان بلکہ پورے وسطی اور جنوبی ایشیا میں رابطوں کو آگے بڑھائے گا،اس منصوبے سے چین اور پاکستان کے علاؤہ ایران، افغانستان، بھارت، وسطی ایشائی ریاستیں اور خطے کے دیگر ممالک مستفید ہوں گے، پاکستان خطے میں امن،ترقی اور معاشی استحکام کا خواہشمند ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کو پارلیمانی کمیٹی برائے اقتصادی راہداری کے زیر اہتمام سی پیک کے حوالے منعقدہ مکالمے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مکالمے کا عنوان سی پیک کے تحت سرمایہ کاری، تجارت اور عوامی رابطوں کو فروغ دینے میں پارلیمان کا کردار ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اس قیصر نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کا ایک ذریعے ہے۔ سی پیک نا صرف پاکستان بلکہ پورے وسطی اور جنوبی ایشیا میں رابطوں کو آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے چین اور پاکستان کے علاؤہ ایران، افغانستان، بھارت، وسطی ایشائی ریاستیں اور خطے کے دیگر ممالک مستفید ہوں گے۔ پاکستان خطے میں امن،ترقی اور معاشی استحکام کا خواہشمند ہے۔ ون پیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے تحت سی پیک متعدد ریاستوں کی شمولیت کے ذریعے علاقائی رابطوں کو کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ خیبرپختونخوا چین کو افغانستان اور وسطی ایشائی ریاستوں سے جوڑنے کا واحد ذریعہ ہے۔ خیبرپختونخوا پاکستان اور چین دونوں کے لیے تجارت کی نئی راہیں کھولے گا۔ مستقبل میں خیبرپختونخوا اپنے جغرافیائی اہمیت کی بدولت اہم تجارتی مرکز بنے گا۔ پاکستان سی پیک منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے کوشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ رشکئی اقتصادی زون کا افتتاح ہو رہا ہے جو صوبے میں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع فراہم ہوں گے۔ پارلیمان قانون سازی اور نگرانی کے اختیار کے تحت ایک مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ سی پیک منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمانی برائے سی پیک قائم کی گئی ہے۔پشاور کو ان شاءاللہ سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کے ذریعے جنوبی ایشیائی ممالک میں تجارت کا مرکز بنائیں گے۔ یہ خطہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور افغان جنگ کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ قریبی برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کاخواں ہے۔ گزشتہ ماہ میری دعوت پر افغانستان وولسی جرگہ کے سپیکر اراکین پارلیمنٹ اور تجارتی برادری ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا۔ دسمبر میں افغانستان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ افغانستان نے سی پیک میں شمولیت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے جو خوش آئند ہے۔








