اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان الیکشن سے متعلق اگرکسی کو شکایت ہے تو الیکشن کمیشن سے رجوع کریں ، اسطرح اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی باتیں بچگانہ سوچ ہے ،بلاول بھٹو نے اگر سیاست کرنی ہے تو اپنے عمل میں سیاست میں پختگی لانا ہوگی ، پی ٹی آئی پہلی حکومت ہے جس میں موروثی سیاست …
گلگت بلتستان الیکشن سے متعلق اگرکسی کو شکایت ہے تو الیکشن کمیشن سے رجوع کریں ، اسطرح اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی باتیں بچگانہ سوچ ہے ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان الیکشن سے متعلق اگرکسی کو شکایت ہے تو الیکشن کمیشن سے رجوع کریں ، اسطرح اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی باتیں بچگانہ سوچ ہے ،بلاول بھٹو نے اگر سیاست کرنی ہے تو اپنے عمل میں سیاست میں پختگی لانا ہوگی ، پی ٹی آئی پہلی حکومت ہے جس میں موروثی سیاست نہیں ہے ، اپوزیشن ماضی کی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لئے برسرپیکار ہے، ملک میں گندم اور چینی کی قلت نہیں ہے ،ذخیرہ ہدف کے مطابق ہے ۔ وہ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے ہمراہ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ معاشی اشاریے مثبت سمت پر جار ہے ہیں ، سٹاک ایکسچینج ، غیر ملکی سرمایہ کاری ، لارج سکیل مینو فیکچرنگ سمیت ہر شعبے میں بہتری آرہی ہے ۔ وزیراعظم کا ہدف ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں ،ملک میں خوشحالی آئے اور حالات بہتری کی جانب گامزن ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ19کی دوسری لہر آچکی ہے اس میں ہم نے بہتر احتیاط کرنا ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گندم کی قلت نہیں ہے ،ذخیرہ ہدف کے مطابق ہے ،کئی بھی قلت کی شکایت نہیں ہے ، 42لاکھ ٹن گندم موجودہ ہے ،19لاکھ ٹن گندم راستے میں ہے ، ٹی سی پی اور حکومت سے حکومت گندم کے معاہدے فروری تک مکمل ہوجائیں گے ، فروری تک کے لئے گندم ہمارے پاس موجود ہے ،نئی فصل آنے کے بعد سرپلس سٹاک کے ساتھ ہونگے ۔ انہوں نےکہا کہ برآمد شدہ چینی پنجاب کے یوٹیلٹی سٹور میں 68روپے کی فروخت ہورہی ہے، پوری کوشش ہے کہ بنیادی اجناس ذخیرے اور قیمتوں کے حوالے سے کنٹرول میں ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا احتجاج کا تعلق ، جمہوری معاشرے میں اجتجاج ہوتے ہیں ، معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے ،اپوزیشن کی کوشش ہے کہ حکومت کام نہ کرسکے ، مقبول نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت ساری حکومتوں سے مختلف ہے ، موروثی سیاست نہیں ہے ،عمران خان کی صورت میں ایسی قیادت ہے جسکا ذاتی کاروبا ر نہیں ہے ، باقی قیادت ماضی کی کرپشن کو بچانے کے لئے ایسا کررہی ہے ، بے نظیر کی شہادت پر پیپلز پارٹی حکومت میں آئی تھی ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن فورم ہے شکایات ہیں تو اس کے لئے عمل کو تو پورا کریں ، ثبوتوں کی بنیاد پر اپنا احتجاج کریں ۔ یہ بچگانہ سوچ ہے، ملک میں سیاست کرنی ہے تو سیاست اور اپنے عمل میں پختگی لانا ہوگی ۔







