اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ پاکستان نے عالمی تجارتی تنظیم کے تجارتی سہولتی معاہدہ کی عمل درآمد فہرست کے حوالہ سے نمایاں پیش رفت کی ہے، اس اقدام سے پاکستان کی معیشت میں بہتری آئیگی جبکہ روزگارکے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔ اتوارکو سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ٹوئٹرپرجاری ہونے والے ایک پیغام میں انہوں نے کہاکہ معاہدہ پر عمل درآمد …
پاکستان نے عالمی تجارتی تنظیم کے تجارتی سہولتی معاہدہ کی عمل درآمد فہرست کے حوالہ سے نمایاں پیش رفت کی ہے، حفیظ شیخ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ پاکستان نے عالمی تجارتی تنظیم کے تجارتی سہولتی معاہدہ کی عمل درآمد فہرست کے حوالہ سے نمایاں پیش رفت کی ہے، اس اقدام سے پاکستان کی معیشت میں بہتری آئیگی جبکہ روزگارکے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔ اتوارکو سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ٹوئٹرپرجاری ہونے والے ایک پیغام میں انہوں نے کہاکہ معاہدہ پر عمل درآمد جون2018 کے 34 فیصد سے بڑھ کر نومبر 2020 میں 79 فیصد کی سطح پرپہنچ گیاہے ۔ اس بہتری کے نتیجہ میں پاکستان نے سرحد پار تجارتی فہرست میں 31 پوزیشن کا اضافہ حاصل کیا ہے جس کی بدولت پاکستان عالمی فنڈ کی سالانہ تجارتی آسانی رپورٹ 2020 میں 136 پوزیشن سے 108 پوزیشن پر آگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ تجارتی سہولتی معاہدہ پر عمل درآمد کی رفتار خطے کے دوسرے ممالک جیسے بھارت اور بنگلہ دیش سے زیادہ ہے جن کی عمل درآمد شرح باالترتیب 78.2 فیصد اور 36.1 فیصد ہے۔ پاکستان کی عمل درآمد شرح عالمی تجارتی تنظیم کے رکن ممالک کی اوسط شرح 65.5 فیصد اور ترقی پزید ممالک کی اوسط شرح 65.2 فیصد سے بھی زیادہ ہے ۔ واضح رہے کہ تجارتی سہولتی اقدامات معاشی سرگرمی کو بڑھانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے، برآمدات میں اضافہ اور روزگارکے مواقع فراہم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ وزیراعظم کے جامع تجارتی سہولتی اقدامات کو فروغ دینے کے وژن کے مطابق پاکستان کسٹمز ایف بی آر نے ایک منظم منصوبہ مرتب دیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے ممبر کسٹمز کی قیادت میں پراجیکٹ ٹیمیں متعین کیں تا کہ عالمی تجارتی تنظیم کے تجارتی سہولتی معاہدہ پرعمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ متعین کردہ ٹیموں نے جانفشانی سے کام کرتے ہوئے معاہدہ پر عمل درآمد کو یقنی بنایا جس کے باعث ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ ملا ہے۔تجارتی سہولتی معاہدہ کے نمایاں نکات میں آتھو رایزڈ اکنامک آپریٹر پروگرام، ایڈوانس رولنگ، الیکٹرانک طریقے سے ادائیگی، اشیا کی درآمد سے قبل پراسیسنگ، ٹرانزٹ میں آزادی، رسک مینجمنٹ اور پوسٹ کلئیرنس آڈٹ شامل ہیں۔ عالمی تجارتی تنظیم کے مطابق سب سے مشکل عمل درآمدی نکتہ سنگل ونڈو اور بارڈر ایجنسی تعاون ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کسٹمز نے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے سنگل ونڈو اور بارڈر ایجنسی تعاون میں قابل نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ او ای سی ڈی کے تجارتی سہولتی انڈیکیٹر ڈیٹا2019 نے تجارتی سہولتی معاہدہ پر عمل درآمد پر پاکستان کی تعریف کی ہے۔ عالمی کسٹمز تنطیم نے پاکستان کی اس ترقی پر پاکستان کسٹمز کو کامیاب ممالک کے کسٹمز اداروں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔








