سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پاک افغان پارلیمانی دوستی گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کا5 واں اجلاس

اسلام آباد۔23نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے سے پیدا ہونے والے تجارتی مواقع ہماری آنے والی نسل کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے، دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لئے قومی اسمبلی پاکستان کے زیر اہتمام حالیہ کانفرنس پاک-افغان پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی …

اسلام آباد۔23نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے سے پیدا ہونے والے تجارتی مواقع ہماری آنے والی نسل کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے، دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لئے قومی اسمبلی پاکستان کے زیر اہتمام حالیہ کانفرنس پاک-افغان پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی مستقل کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، انہوں نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے جب افغانستان کے 23 رکنی اراکین پارلیمنٹ کا وفد اپنے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے ہمراہ پاکستان تشریف لایا، کانفرنس کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اس کمیٹی کی اولین ترجیح ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں پاک افغان پارلیمانی دوستی گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 5 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ ایگزیکٹو کمیٹی کی سفارشات کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے اسپیکر اسد قیصر نے حکومت کی طرف سے ان سفارشات پر عملدرآمد کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی سفارش پر طورخم بارڈر پیدل پاکستان آنے والوں کے لئے اب 4 دن کی بجائے 7 دن کے لئے کھلا ہے۔ اسپیکر نے وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد سے کمیٹی ممبران اور وزیر اعظم کے خصوصی ایلچی صادق خان کے ہمراہ چمن بارڈر کا دورہ کرنے کو کہا۔ اسپیکر نے تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق کانفرنس کی سفارش پر مزید جائزہ لینے کے لئے جلد ہی آئندہ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت سے بھی کہا کہ وہ وزارت تجارت کی جانب سے افغانستان کے ساتھ ترجہیی تجارتی معاہدے پر بات چیت کو تیزرفتاری سے آگے بڑھیں تاکہ تجارتی سرگرمیاں کے اضافے میں مزید تیزی اسکے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری رزاق داؤد نے اپنے دورہ افغانستان کے بارے میں ایگزیکٹو کمیٹی کو آگاہ کیا جہاں ترجیحی تجارت کے معاہدے ، ٹرکوں کی آزادانہ نقل و حمل ، کسٹم کے معاملات اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ دونوں اطراف سے تفصیلی غور و فکر کے بعد مفاہمت نامے پر دستخط ہوں گے اور اس کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کا حجم بھی بڑھ جائے گا۔ ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی شندانہ گلزار ، محسن داوڑ ، صلاح الدین ایوبی، یعقوب شیخ، معاون خصوصی ارباب شہزاد ویڈیو لنک کے ذریعے اور ریلوے، تجارت ، خارجہ امور کے افسران شریک ہوئے۔ ایف بی آر ، این ایل سی اور بلوچستان اور کے پی کے کی صوبائی حکومت کے سینئر افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔