سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے اُردن کے پاکستان میں تعینات سفیر میجر جنرل (ر)ابراہیم یالا المدنی اور افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کی ملاقاتیں

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے اُردن کے پاکستان میں تعینات سفیر میجر جنرل (ر)ابراہیم یالا المدنی نے منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، مسلم ممالک میں قریبی رابطوں سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان اور اردن کے مابین تعلقات مذہب، اخوت، ثقافت اور تاریخ کی مضبوط بنیادوں پر …

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے اُردن کے پاکستان میں تعینات سفیر میجر جنرل (ر)ابراہیم یالا المدنی نے منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، مسلم ممالک میں قریبی رابطوں سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان اور اردن کے مابین تعلقات مذہب، اخوت، ثقافت اور تاریخ کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں اور پاکستان اور اُردن اہم علاقائی و عالمی امور پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری دونوں اسلامی برادر ممالک کے مابین باہمی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے اراکینِ پارلیمنٹ کا پارلیمانی سطح پر تبادلوں سے دونوں اقوام کو قریب ایک دوسرے کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اردن کے ساتھ معاشی، اقتصادی اور علاقائی ترقی کے لیے تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں برادر اسلامی ممالک میں قریبی اقتصادی تعاون دونوں اقوام کے بہترین مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیہ کے خاتمے کےلیے اسلامی ممالک کو ایک مشترکہ لائحہ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔اُردن کے سفیر میجرجنرل (ر) ابراہیم یال المدنی نے کہا کہ اُردن پاکستان کے ساتھ اپنے قریبی برادرانہ دوستانہ تعلقات کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔انہوں نے کہا کہ اردن پاکستان کے ساتھ اقتصادی و تجارتی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت کے بہترین مواقع میسر ہیں جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے مابین پہلے سے قائم مذہبی، ثقافتی اور تاریخی تعلقات کو فروغ کے لیے قریبی رابطوں کا ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے اراکین پارلیمنٹ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی حسن سے مالامال ہےاور دونوں برادر ممالک کے مابین سیاحت کے شعبہ میں تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل نے ملاقات کی ۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، خطے میں امن و امان کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اسپیکر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات مذہب، اخوت، ثقافت اور ہمسائیگی کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں اورسرحد کی دونوں جانب کی عوام کے درمیان محبت اور باہمی احترام کا رشتہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ،مستحکم اور خوشحال افغانستان دیکھنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے مابین باہمی تعلقات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔انہوں نے پاکستان، افغانستان کے ساتھ معاشی، اقتصادی اور علاقائی ترقی کے لیے تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام سمیت خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان امن معاہدہ افغانستان اور خطے میں امن کے قیام اور ترقی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔پاک-افغان تجارت و سرمایہ کاری کی مکمل بحالی کے لیے پاک-افغان فرینڈشپ گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی زیادہ تر سفارشات پر عملدآمد ہو چکاہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور مشیر تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد کا حالیہ دورہ افغانستان سے دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم کو بڑھانے میں اہم پیشرفت ثابت ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین بہت جلد تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں طویل المدتی معاہدوں کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہونے کے بعد تجارتی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔افغانستان کے پاکستان میں تعینات سفیر نجیب اللہ علی خیل نے افغانستان پاکستان کے ساتھ اپنے قریبی دوستانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ اقتصادی و تجارتی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان عوام پاکستانی عوام کے ساتھ محبت اور خیر سگالی کے جذبات رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت کے بہترین مواقع میسر ہیں جن سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں پارلیمان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ افغان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کا پاک-افغان تجارت کی راہ میں حائل رکاؤٹوں کو دور کرنے میں اسپیکر قومی اسمبلی کے کردار کی تعریف کی ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ قومی اسمبلی کے زیر اہتمام ہونے والے پاک۔افغان تجارت و سرمایہ کاری سیمینار کے دونوں ممالک کے تجارت و سرمایہ کاری پر دورس نتائج برآمد ہوہوں گے۔