مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کی طویل عرصہ سے غیر قانونی نظر بندی باعث تشویش ہے، صدر آزاد کشمیر

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی طویل عرصہ سے غیر قانونی نظر بندی اور قیدر و بند پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سیاسی قیدیوں کی بلا جواز گرفتاری …

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی طویل عرصہ سے غیر قانونی نظر بندی اور قیدر و بند پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سیاسی قیدیوں کی بلا جواز گرفتاری اور طویل قید کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ منگل کے روز اپنے ایک بیان میں صدر سردار مسعود خان نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی نظر بندی کو بھارتی حکومت کی شرمناک کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ملک بھارت نے یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور دیگر سیاسی وہنماؤں کی خرابی صحت کے باوجود انہیں طویل عرصہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کرکے استعماری ذہنیت کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے بھارت سے آزادی اور اپنے حق خود ارادیت کے لیے آواز بلند کرنے کے سوا کوئی جرم نہیں کیا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت کی نظر میں آزادی اور حق خودارادیت کا مطالبہ کرنا قتل اور دہشت گردی سے بڑا جرم ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ سیاسی نظریات رکھنے کے جرم میں ضعیف اور جسمانی طور پر علیل خواتین کو طویل عرصہ تک جیلوں میں بند رکھنا بھارتی حکمرانوں کی سامراجی انتقامی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دختران ملت کی سربراہ ساٹھ سالہ آسیہ اندرابی کو اکتوبر 2016 کو بھارتی فوج نے گرفتار کیا تھا جنہیں 2017 میں رہا کیا گیا لیکن جلد ہی انہیں دوبارہ گرفتار کر کے پہلے امبالہ جیل میں رکھا گیا اور بعد میں انہیں دہلی کے تہاڑ جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ ان کے ساتھ ان کی دو سیاسی رفقا فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو بھی اسی جیل میں رکھا گیا ہے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کی گرفتاری اور طویل عرصہ جیل میں بند کرنے کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ یاسین ملک کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے لیکن بھارتی حکومت انہیں جیل سے رہا کرنے کے بجائے طبی سہولتیں دینے سے بھی انکاری ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے بے گناہ شہریوں کو مسلسل ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام بھارت کے تمام تر استعماری ہتھکنڈوں کے باوجود اپنی آزادی اور حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کے حوالے سے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کا سیاسی و سفارتی حل تلاش کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطہ میں امن و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔