این سی او سی غیر سیاسی طور پر کام کر رہا ہے، این سی او سی کی ہدایات آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے کوئی جلسہ یا بڑا اجتماع نہیں کیا، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ کورونا کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا قیام ایک اچھا اقدام ہے، این سی او سی غیر سیاسی طور پر کام کر رہا ہے، این سی او سی کی ہدایات آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے کوئی جلسہ یا بڑا اجتماع نہیں کیا۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے …

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ کورونا کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا قیام ایک اچھا اقدام ہے، این سی او سی غیر سیاسی طور پر کام کر رہا ہے، این سی او سی کی ہدایات آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے کوئی جلسہ یا بڑا اجتماع نہیں کیا۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ کی دعوت حکومت کی طرف سے نہیں سپیکر کی طرف سے ہے، سپیکر اسمبلی نے میٹنگ اپنی کوئی مشکل آسان کرنے کے لئے نہیں بلائی بلکہ یہ میٹنگ پاکستانی عوام کی فلاح اور ان کی جانوں کی حفاظت کے لئے لائحہ عمل طے کرنے کے لئے بلائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو بلانے کا مقصد یہ ہے کہ ان کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ کورونا کی وباءتیزی سے پھیل رہی ہے اور اس صورتحال میں یہ اپنے جلسے مؤخر کر دیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ عوام کی زندگیاں دائوپر لگی ہوئی ہیں، کیا یہ معمولی بات ہے کہ سکول بند ہو رہے ہیں، اپوزیشن جماعتوں کے بیانات سے انا کی بُو آتی ہے، ان کی ذاتی انا پاکستانی عوام کی زندگیوں سے اونچی کیسے ہو سکتی ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں (ن )لیگ کی حکومت ہے، وبائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں لاک ڈائون کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نہ این آر او لیتے ہیں اور نہ ہی این آر او دیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں علی محمد خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین قائداعظم کے دل کے قریب تھے، بیت المقدس کی آزادی، مسئلہ فلسطین کے حل تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم مسئلہ فلسطین سے پیچھے ہٹتے ہیں تو مسئلہ کشمیر بھی ہاتھ سے جاتا ہے، جب تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوتا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔