کورونا وائرس صورتحال خرابی کی طرف جا رہی ہے ،صحت کے نظام پر شدید دبائو آنے کا خدشہ ہے،حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کرنا ناگزیر ہے،وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس صورتحال خرابی کی طرف جا رہی ہے اسی لئے مزید اقدامات لئے گئے ہیں، جس رفتار سے کیسز اور اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے صحت کے نظام پر شدید دبائو آنے کا خدشہ ہے، ویکسین آنے میں ابھی وقت لگے گا اسلئے حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کرنا …

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس صورتحال خرابی کی طرف جا رہی ہے اسی لئے مزید اقدامات لئے گئے ہیں، جس رفتار سے کیسز اور اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے صحت کے نظام پر شدید دبائو آنے کا خدشہ ہے، ویکسین آنے میں ابھی وقت لگے گا اسلئے حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کرنا ناگزیر ہے۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این سی او سی میں ایک دو دن کو نہیں بلکہ آگے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، اکتوبر کے پہلے عشرے میں کہا تھا کہ حالات خراب ہو سکتے ہیں اسلئے بعض چیزوں پر پابندیاں لگانے کی سفارش کی تھی لیکن صوبے نہیں مانے، اکتوبر سے اب تک کیسز میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ کورونا کے حوالے سے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج بدھ کو دوپہر بارہ بجے ہو گا، امید ہے کہ اجلاس مثبت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اس وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ وبا کے پھیلنے سے لوگوں کا روزگار خطرے میں نہ پڑے، سیاست ہوتی رہے گی، وبا ختم ہونے کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلاتی رہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ این سی او سی میں ابھی مارکیٹوں کو جلد بند کرنے کے حوالے سے فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران حکومت کی حکمت عملی واضح ہے، ایسے نظام کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں کہ وبا پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی صحت کی حفاظت بھی کی جا سکے اور کاروباری سرگرمیاں بھی چلتی رہیں، پاکستان کے اندر دو تہائی آبادی سطح غربت سے نیچے ہے، اگر لوگوں کا روزگار چھن جائے تو ان کیلئے شدید مشکلات پیدا ہوں گی۔ ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ ویکسین کے معاملہ آج بدھ کو ہونے والے این سی او سی ایجنڈے میں شامل ہے،ایک دو دن کے میں اس حوالے سے حتمی فیصلے متوقع ہیں۔