اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی اور پاکستان علماکونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے معاملہ پر پاکستان کا موقف بڑا واضح ہے، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، گزشتہ دوسال کے دوران ناموس رسالت کے قانون کے غلط استعمال میں کمی ہوئی ہے، بھارت کالعدم تنظیموں کے ذریعے پاکستان میں فرقہ واریت چاہتا ہے۔ …
، وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہر محمود اشرفی کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی اور پاکستان علماکونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے معاملہ پر پاکستان کا موقف بڑا واضح ہے، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، گزشتہ دوسال کے دوران ناموس رسالت کے قانون کے غلط استعمال میں کمی ہوئی ہے، بھارت کالعدم تنظیموں کے ذریعے پاکستان میں فرقہ واریت چاہتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطین اور فلسطینی عوام مسئلہ فلسطین کے حوالے سے کوئی حل قبول نہیں کرلیتے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے مسئلہ پر پاکستان کا موقف بڑا واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی دہشت گرد اور انتہاپسند تنظیموں کی مدد اور انہیں منظم کر رہا ہے، اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ اسلامی دنیا اور عرب ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو ہمارے نزدیک نزدیک اولیت حاصل ہے یہ ممکن نہیں ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے مسئلہ کو کوئی پس پشت ڈال سکے، کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ ہمارے دل دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مسلم امہ متحد ہو۔ اسلامی اور عرب ممالک میں بیرونی مداخلت اور دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کی سرپرستی کرنے والوں کا دنیا بائیکاٹ کرے، ان کے خلاف ایکشن لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر محرم الحرام سے پہلے اور محرم الحرام کے دوران فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی، بعض اہم مذہبی اور سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے کی سازش کی گئی لیکن پاکستان کے سلامتی کے اداروں، فوج، ریاست اور حکومت کی کوششوں سے اسے ناکام بنا دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں پکڑا جانے والا گروہ کس طرح ملک کے اندر اور کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے فرقہ وارانہ فسادات کے لئے مختلف گروہوں کی مدد کی لیکن علماکرام اور مشائخ کے تعاون سے اس کوشش کو ناکام بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور اور ننکانہ صاحب میں اقلیتوں کے حوالے سے جو واقعات ہوئے ہیں، ان کے مجرم گرفتار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایک کیس کو دیکھیں گے۔ جبری اسلام قبول کرنے کی بات ہو یا جبری نکاح کا معاملہ ہو، پاکستان میں غیر مسلموں کا قتل یا زیادتی کی بات ہو، ہم نے اس پر اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔ ایک ایک کیس کو دیکھا جائے گا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ کیا اس کے اسباب میں مذہبی، ذاتی، خاندانی عداوت تو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی بھی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اسے مذہب کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دین اسلام کو کسی کی ہوس کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم نے مختلف مذاہب کے اکابرین کے ساتھ اجلاس منعقد کئے اور ان سے بھی کہا کہ خواہ جبری شادیوں کا معاملہ ہے یا کوئی اور مسئلہ ہو، اس کو ایک ایک کیس کے طور پر دیکھا جائے گا تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے چیئرمین پاکستان علما کونسل نے کہا کہ وہ عوام سمیت تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلسے اور اجتماعات کا سلسلہ چند روز کے لئے ملتوی کر دیں۔ وہ خود بھی کورونا وائرس کا شکار رہے ہیں، یہ ایسی وباہے جو اس کا شکار ہوتا ہے اسے ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیا ہے۔ یہ صرف 14 دن کا مسئلہ نہیں، یہ آپ کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لئے میری عوام سے اپیل ہے کہ اس وباکے حوالے سے احتیاط کریں۔ انہوں نے کہا کہ 27 نومبر کو جمعتہ المبارک کے اجتماعات کورونا وائرس کی وباکے حوالے سے احتیاطی تدابیر کے ساتھ منعقد ہوں گے اور ان اجتماعات میں لوگوں کو احتیاط برتنے کی اپیل کے ساتھ ساتھ انہیں آگاہی بھی فراہم کی جائے گا۔ اس کے علاوہ جمعہ مبارک کے اجتماعات میں خواتین کے بارے میں بھی موضوع شامل ہوگا۔ ہمارے ہاں خواتین کو وراثت میں حق نہیں دیا جاتا، جہیز کی ایک رسم ہے اس کی وجہ سے لاکھوں بچیاں گھروں میں بیٹھی ہیں، ان مسائل پر بھی ہمیں توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے وزرا خارجہ کا اجلاس ہو رہا ہے، ہمارے وزیر خارجہ بھی وہاں جا رہے ہیں، ہم وہاں کشمیر کا معاملہ اٹھا رہے ہیں اور اسلامو فوبیا اور ناموس رسالت کی توہین، فرانس میں خاکوں کے بارے میں پاکستان کا موقف ہے کہ اقوام متحدہ کی سطح پر قانون سازی ہو جس میں تمام انبیا اور تمام آسمانی مذاہب اور کتب کی توہین کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی ناموس کی توہین کی جاتی ہے تو ایک ڈیڑھ ارب سے زیادہ کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ ہمارے دل تو اس وقت بھی دکھتے ہیں جب کوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، تورات، زبور یا انجیل کی توہین کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام آسمانی کتب، مذاہب اور تمام انبیاکرام کی توہین کے حوالے سے قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سعودی عرب میں آئل کی سپلائی لائن پر حملہ ہوا، پاکستان کی حکومت اور عوام کا واضح موقف ہے کہ سعودی عرب کا امن اور سلامتی ہمیں بہت عزیز ہے، وہاں مسلمانوں کے مقدسات ہیں، ہم اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔








