ہالینڈ حکومت پاکستان کی کاروبار دوست پالیسیوں بالخصوص زراعت ، قابل تجدید توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائے،ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):ہالینڈ یورپی یونین میں پاکستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے ،ہالینڈ، حکومت پاکستان کی کاروبار دوست پالیسیوں بالخصوص زراعت ، قابل تجدید توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور نیدرلینڈ کے مابین باہمی سیاسی مشاورت کا آٹھواں مرحلہ منگل کو ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا۔ خصوصی سیکرٹری (یورپ) ڈاکٹر امان راشد …

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):ہالینڈ یورپی یونین میں پاکستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے ،ہالینڈ، حکومت پاکستان کی کاروبار دوست پالیسیوں بالخصوص زراعت ، قابل تجدید توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور نیدرلینڈ کے مابین باہمی سیاسی مشاورت کا آٹھواں مرحلہ منگل کو ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا۔ خصوصی سیکرٹری (یورپ) ڈاکٹر امان راشد اور وزارت خارجہ امور نیدرلینڈ میں سیاسی امور کے ڈائریکٹر جنرل تھیجس وان ڈیر پلاس ، نے اپنے اپنے ملکی وفود کی قیادت کی۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس کے دوران فریقین نے سیاسی ، معاشی ، تجارتی ،سرمایہ کاری ، ماحولیاتی تبدیلی سمیت دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا ۔دوطرفہ تعلقات میں بتدریج پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے اعلی سطح پر رابطوں میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ فریقین نے اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر تعاون کی سطح پر اطمینان کا اظہار اور ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ڈچ فریق کو پاکستان میں کوویڈ 19 کی صورتحال اور حکومت کی جانب سے عوام کی جان ومال اور زریعہ معاش کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ سپیشل سیکرٹری (یورپ) نے نوٹ کہا کہ ہالینڈ یوروپی یونین میں پاکستان کا ایک بہت بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈچ حکومت ،پاکستان کی کاروبار دوست پالیسیوں خصوصا زراعت ، قابل تجدید توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائے۔ خصوصی سیکرٹری نے پاکستان کی جی ایس پی پلس سکیم کے لئے ہالینڈ کے تعاون کو سراہا اور 27 بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے اہم عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جبکہ خصوصی سکریٹری نے دنیا کے مختلف حصوں میں نسل پرستی خصوصا اسلامو فوبیا کے اضافے پر پاکستان کے خدشات سے آگاہ کیا اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈچ وفد کو اقلیتوں کے خلاف بھارتی حکومت کی امتیازی پالیسیوں،مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی ، یکطرفہ کارروائیوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کے بارے آگاہ کیا گیا۔ خصوصی سکریٹری ( یورپ)نے ڈچ فریق پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرے کو ختم کرنے ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور آزاد بین الاقوامی تنظیموں کو تحقیقات کیلئے مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دینے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالیں ۔ ترجمان نے کہا کہ ڈچ وفد کو افغانستان میں امن عمل کیلئےپاکستان کی کوششوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جس کا مقصد افغانستان میں امن عمل کی حمایت کرنا ہے۔ اسپیشل سکریٹری (یوروپ) نے کہا کہ پاکستان پر امن ، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے لئے جامع ، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل کے لئے امن عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔ فریقین نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے رابطے مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔