اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے لانگ مارچ اور استعفوں سے گھبراہٹ کا شکار نہیں ہے، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل سیاسی جماعتوں کا اتحاد سیاسی کاروبار کو بحال کرنے کیلئے ہے، ان کو عوام اور ملک کے مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے، حکومت کو اپوزیشن کے جلسوں سے کوئی خطرہ نہیں …
حکومت اپوزیشن کے لانگ مارچ اور استعفوں سے گھبراہٹ کا شکار نہیں ہے، پیپلزپارٹی کسی صورت میں استعفے نہیں دے گی،وفاقی وزیر برائے انسدادمنشیات اعظم خان سواتی

مزید خبریں
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے لانگ مارچ اور استعفوں سے گھبراہٹ کا شکار نہیں ہے، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل سیاسی جماعتوں کا اتحاد سیاسی کاروبار کو بحال کرنے کیلئے ہے، ان کو عوام اور ملک کے مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے، حکومت کو اپوزیشن کے جلسوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے، تحریک انصاف حکومت نہ صرف اپنی آئینی مدت پوری کرے گی بلکہ 2023ءمیں انتخابات جیت کر دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں اپوزیشن کے پاس جلسے کرنے کا اخلاقی جواز نہیں ہے، پیپلزپارٹی کے علاوہ باقی ساری جماعتیں اقتدار سے باہر ہیں اسلئے اب یہ لوگ پیپلزپارٹی کو استعفے دینے کیلئے منا رہے ہیں لیکن پیپلزپارٹی کبھی استعفے نہیں دے گی۔ اعظم خان سواتی نے کہا کہ اگر پیپلزپارٹی چھ ماہ کیلئے سندھ سے باہر ہو گئی تو یہ کبھی دوبارہ سندھ میں اپنی حکومت نہیں بنا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بنیاد احتساب ہے، اگر ملک کرپشن کی نذر ہو جائے تو پھر ملک رہتا ہے اور نہ ہی ادارے، 1 کروڑ 70 لاکھ لوگوں نے بدعنوان عناصر کے خلاف احتساب کیلئے تحریک انصاف کو مینڈیٹ دلوایا ہے اور وزیراعظم عمران خان جن کی 22 سال کی جدوجہد ہی اسی کے خلاف ہے وہ کبھی بھی احتساب کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ذاتی مفادات کو تحفظ دینے اور مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے عوام کی جانوں اور معیشت کو نقصان پہنچانے کیلئے جلسوں کا ڈرامہ کر رہی ہیں، یہ لوگ خود کو بندگلی کی طرف لے کر جا رہے ہیں لیکن آخر میں انہیں مذاکرات کی ٹیبل پر آنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں استعفوں کے معاملے پر متفق نہیں ہیں، اگر انہوں نے استعفے دیئے تو حکومت ضمنی انتخابات کرائے گی اور تحریک انصاف کے امیدوار انتخابات لڑیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ملک کو درپیش مہنگائی، معیشت اور قومی مفادات کی قانونی سازی کے معاملات پر اپوزیشن کیلئے مذاکرات کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک سے منشیات کے مکروہ دھندے کے خاتمے کیلئے موثر کارروائی کر رہی ہے، اکتوبر کے مہینے میں اینٹی نارکوٹکس فورس نے بلوچستان کے ایک علاقے سے 301 ملین ڈالر کی منشیات پکڑی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینیٹ چیئرمین نیب کو بلا سکتا ہے۔ اعظم خان سواتی نے کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کے جلسوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے، کابینہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے جلسوں اور استعفوں سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی۔








