اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ برطانوی، یورپین پارلیمنٹ، امریکی کانگریس اور دنیا بھر کی اہم پارلیمنٹس کو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے،بھارت اپنی اندرونی کمزوریوں سے توجہ ہٹانے کیلئے کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔بدھ کو ہندوستان کی جارحانہ پالیسیوں کے حوالے سے بیان میں …
دنیا بھر کی اہم پارلیمنٹس کو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے،شاہ محمود قریشی

مزید خبریں
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ برطانوی، یورپین پارلیمنٹ، امریکی کانگریس اور دنیا بھر کی اہم پارلیمنٹس کو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے،بھارت اپنی اندرونی کمزوریوں سے توجہ ہٹانے کیلئے کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔بدھ کو ہندوستان کی جارحانہ پالیسیوں کے حوالے سے بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ میں بطور وزیر خارجہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سکیورٹی کونسل کے صدر کو متعدد خطوط کے ذریعے پاکستان کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے بتا چکا ہوں کہ بھارت اپنی اندرونی کمزوریوں سے توجہ ہٹانے کیلئے کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے ۔آج مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کافی بگڑ چکی ہے جو پالیسیاں کشمیریوں پر مسلط کی گئی ہیں تمام کشمیری اس پر سراپا احتجاج ہیں۔کورونا وبا کے حوالے سے جس طرح ہندوستان نے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کئے ہیں ان سے اس کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بھارت کی ان پالیسیوں کے خلاف کسان پورے بھارت میں سراپا احتجاج ہیں۔ اپوزیشن، ٹریڈ یونینز، وکلاء اور طلباء بھی اس احتجاج میں شامل ہو چکے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ بھارت اس داخلی صورت حال سے توجہ ہٹانے کیلئے کوئی ناٹک رچا سکتا ہے ۔اسی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے، آج میری برطانیہ میں 15 کے قریب پارلیمینٹرینز کے ساتھ ویڈیو کانفرنس ہو گی۔ میں نے اپنے پارلیمینٹرینز کو، کشمیر کمیٹی کے سربراہ کو اور اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمینٹری رہنماؤں کو بھی مدعو کیا ہے تاکہ ہم ملکر برطانوی پارلیمنٹیرینز کو اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے اپنی تشویش سے آگاہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں لندن میں اس حوالے سے بہت بڑا احتجاج ہوا ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کے یک-طرفہ غیر آئینی اقدامات کے خلاف ہزاروں کشمیریوں نے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروایا۔پاکستان، دنیا کی پارلیمینٹرینز جمہوریتوں کی توجہ بھارت کے جارحانہ اقدامات کی طرف دلا رہا ہے ۔بھارت اس وقت حواس باختہ دکھائی دے رہا ہے ان کےذمہ داران دھمکی آمیز زبان استعمال کر رہے ہیں جو ان کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہاؤس آف کامنز ، ہاؤس آف لارڈز، یورپین پارلیمنٹ، امریکی کانگریس اور دنیا بھر کی اہم پارلیمنٹس کو صف آراء ہو کر مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔








