بھارتی دھمکی آمیز بیانات، توسیع پسندانہ ذہنیت اور فالس فلگ آپریشن کے خدشات جنوبی ایشیا کے امن و امان کو شدید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں‘وزیر خارجہ کا کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی دھمکی آمیز بیانات، توسیع پسندانہ ذہنیت اور فالس فلگ آپریشن کے خدشات جنوبی ایشیا کے امن و امان کو شدید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں‘ پاکستان، کشمیری بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا‘کشمیر کے حوالے سے عالمی سطح کے پارلیمانی اتحاد کیلئے کوشاں ہیں۔ تمام کشمیریوں کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ …

اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی دھمکی آمیز بیانات، توسیع پسندانہ ذہنیت اور فالس فلگ آپریشن کے خدشات جنوبی ایشیا کے امن و امان کو شدید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں‘ پاکستان، کشمیری بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا‘کشمیر کے حوالے سے عالمی سطح کے پارلیمانی اتحاد کیلئے کوشاں ہیں۔ تمام کشمیریوں کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کوئی مائی کا لال کشمیر کا سودا نہیں کر سکتا‘ تنازعہ جموں وکشمیر کے منصفانہ، پائیدار حل تک کوششیں جاری رکھے گے۔عالمی برادری دیرینہ تنازعہ کے پرامن، منصفانہ اور مستقل حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔بدھ کو انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام انٹر نیشنل بین الاپارلیمانی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کانفرنس غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کی حالت زار سے دنیا کو آگاہ کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوگی۔کانفرنس میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان،برطانیہ کے ایوان نمائندگان اور ایوان بالا کے اراکین،پاکستانی ارکان پارلیمان، یوتھ پارلیمنٹ کے ارکان اور جموں وکشمیر استصواب رائے موومنٹ انٹرنیشنل کے سربراہ راجہ نجابت نے کانفرنس میں شرکت کی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 10 ملین کشمیری تارکینِ وطن دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز ہیں وہ موثر انداز میں کشمیریوں کا مقدمہ پیش کر سکتے ہیں۔امریکہ میں نئی قیادت جنوری 2021 میں ذمہ داریاں سنبھالنے جا رہی ہے‘بائیڈن، فارن پالیسی معاملات کو سمجھتے ہیں وہ جنوبی ایشیائی خطے سے واقف ہیں ۔وزیر خارجہ نے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں سے کہاکہ وہ اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے کانگریس کو جنوبی ایشیا کے امن کو درپیش خطرات سے آگاہ کریں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر اس وقت انسانی حقوق سے محرومی کی علامت بن چکا ہے۔کرونا عالمی وبائی چیلنج کے دوران کشمیری پچھلے 500 دنوں سے اس مکمل لاک ڈائون کا سامنا کر رہے ہیں ۔ہندوتوا کے خمار میں مبتلا بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام سے ان کے تمام حقوق اور آزادی چھین چکی ہے۔بھارت کشمیریوں کو ان کے اپنے خطے میں اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔ہندوتوا ذہنیت کو کسی طور انسانی نہیں کہاجاسکتا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پانچ اگست2019 سے اب تک 256 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیاجاچکا ہے، ہزاروں کشمیریوں پر تشددہوا،انہیں ہزاروں کی تعداد میں گرفتار کیا گیا ، معصوم بچوں کو پیلٹ گنز کا نشانہ بنایا گیا اور5 اگست2019 سے اب تک سینکڑوں کشمیری خواتین کی اجتماعی بے حرمتی کی گئی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی سطح پر کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کو اس کے مظالم سے روکا جائے۔دنیا بھر کے اراکین پارلیمان بے گناہ انسانوں پر بھارتی مظالم بند کرانے میں اپنا موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم پر دنیا عملی کارروائی کرے۔وزیر خارجہ نے اس سلسلے میں تین تجاویز پیش کئے۔پہلی تجویز یہ ہے کہ اراکین پارلیمان کے کل جماعتی کشمیر گروپ کے ساتھ خصوصی کاککس بنایاجائے۔یہ خصوصی کاککس کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور ان کے حق میں لابنگ کرے۔دوسری تجویز یہ ہے کہ مختلف ممالک کی یوتھ پارلیمنٹس اور سول سوسائیٹی گروپس میں رابطے استوار کئے جائیں تاکہ کشمیریوں کی آواز بلند ہو اور تیسری تجویز یہ ہے کہ عالمی حکومتوں، انسانی حقوق کے مقامی اداروں میں پٹیشن دائر کرنے کے علاوہ کشمیریوں کی صورتحال سے آگاہ کیاجائے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ آج پاکستان میں سیاسی اختلافات کے باوجود کشمیر کے حوالے سے پارلیمنٹ کی آواز اور موقف یکساں ہے ، استصواب رائے کے حق کے حصول تک پاکستان کشمیری بھائیوں کی بھرپور مدد کرتا رہے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میں آج تمام کشمیریوں کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کوئی مائی کا لال کشمیر کا سودا نہیں کر سکتا مخدوم شاہ محمود قریشی پاکستان تنازعہ جموں وکشمیر کے منصفانہ، پائیدار حل تک کوششیں جاری رکھے گا۔بھارت کا دھمکیوں پر مبنی بیانیہ، توسیع پسندانہ ذہنیت، سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیاں، اور فالس فلگ آپریشن کے خدشات جنوبی ایشیائی خطے کے امن و امان کو شدید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ بن چکا ہے،آج پورا بھارت سراپا احتجاج ہے ہمیں مل کر مظلوم کشمیریوں کا ہاتھ تھامنا ہے اور انہیں یقین دلانا ہے کہ ان کا آنے والا کل بہتری کی نوید سنائے گا ۔