اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت خطرناک کھیل کھیل رہا ہے، پاکستان بارہا دنیا کو بھارت کے مکروہ اور جارحانہ عزائم کے بارے باور کرا چکا ہے کہ وہ اپنے داخلی معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے، بھارت کے ذمہ داران کی طرف سے انتہائی غیرذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز بیانات دیئے جا رہے ہیں، دنیا …
بھارت خطرناک کھیل کھیل رہا ہے، پاکستان بارہا دنیا کو بھارت کے مکروہ اور جارحانہ عزائم کے بارے باور کرا چکا ہے،دنیا کو فوری طور پر اس کا نوٹس لینا چاہیے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

مزید خبریں
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت خطرناک کھیل کھیل رہا ہے، پاکستان بارہا دنیا کو بھارت کے مکروہ اور جارحانہ عزائم کے بارے باور کرا چکا ہے کہ وہ اپنے داخلی معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے، بھارت کے ذمہ داران کی طرف سے انتہائی غیرذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز بیانات دیئے جا رہے ہیں، دنیا کو فوری طور پر اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو کئی خطوط لکھ چکا ہوں اور اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہوں کہ بھارت اپنے اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کیلئے کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے، اس وقت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بے حد بگڑ چکی ہے اور مودی سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے پورے بھارت میں آج لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انتہاپسند بھارتی حکومت کی طرف سے جو پالیسیاں مسلط کی گئی ہیں لوگوں کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت ابھر چکی ہے، بھارتی حکومت نے کورونا وائرس کو مس ہینڈل کیا جس کی وجہ سے اس کی معیشت تباہ ہو گئی ہے، آج کیفیت یہ ہے کہ پورے بھارت میں کسان مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور اپوزیشن بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے داخلی معاملات بہت بگڑ چکے ہیں اور وہ اپنے اندرونی معاملات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے کوئی نہ کوئی حماقت کر سکتا ہے، بھارت کے ذمہ داران کی طرف سے انتہائی غیرذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز بیانات دیئے جا رہے ہیں، پاکستان بھارت میں انسانی حقوق کی جو پامالیاں ہو رہی ہیں دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے، ہائوس آف کامن، ہائوس آف لارڈز، یورپین یونینز، یو ایس کانگریس اور دیگر پارلیمنٹس کو بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف صف آراءہو کر آواز بلند کرنی چاہیے۔








