پاکستان نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی خود ساختہ اور منتخب جائزہ رپورٹ مسترد کردی

اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی مقامی قانون سازی کے تحت امریکی محکمہ خارجہ کےخود ساختہ اور منتخب جائزہ رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو "مذہبی آذادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک " میں شامل کرنا زمینی حقائق کےمنافی اورامریکی رپورٹ کی ساکھ کے بارے میں سخت شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں۔ اس طرح کی مخصوص نامزدگیاں دنیا بھر میں …

اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی مقامی قانون سازی کے تحت امریکی محکمہ خارجہ کےخود ساختہ اور منتخب جائزہ رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو "مذہبی آذادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک ” میں شامل کرنا زمینی حقائق کےمنافی اورامریکی رپورٹ کی ساکھ کے بارے میں سخت شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں۔ اس طرح کی مخصوص نامزدگیاں دنیا بھر میں مذہبی آزادیوں کو فروغ دینے میں معاون نہیں ہونگی۔مذہبی آذادیوں کے حوالے سے پاکستان اور امریکہ کے مابین تعمیری رابطے ہو رہے ہیں ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ امریکہ نے اسے نظرانداز کر دیا۔بدھ کو ترجمان دفتر نے امریکی جائزہ رپورٹ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستانی معاشرہ تکثیریت پسند اور بین المذاہب ہم آہنگی کی روایات رکھنے والے مختلف مذاہب پر مشتمل ہے،جہاں ملکی آئین مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتاہے اور انہیں منتعدد قانون سازی ، پالیسی اور انتظامی اقدامات کے تحت یقینی بنایا گیا ہے۔ بد قسمتی سے رپورٹ میں بھارت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے ، جہاں آر ایس ایس۔بی جے پی حکومت اور ان کے قائدین منظم انداز میں مذہبی آزادیوں کی کھلے عام خلاف ورزیاں اور اقلیتی برادری کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں ۔اس امتیازی رویئے نے امریکی رپورٹ کی ساکھ پر سوالات پیدا کئے ہیں۔ ہندوستان میں ریستی سرپرستی میں مسلم اقلیت کے خلاف منظم تشدد ریکارڈ کی بات ہے۔ترجمان نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں بین الاقوامی مذہبی آزادی کے بارے میں امریکی کمیشن کی سفارشات کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ بد سلوکی سمیت مقبوضہ کشمیر اور ملک بھر میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزی سے متعلق یو ایس کانگریس کی سماعتوں کو بھی نظرانداز کر دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں پاکستان کے نکتہ نظر سے امریکی حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہم اس بات پر یقین رکھتےہیں کہ عدم رواداری ، امتیازی سلوک ، زینو فوبیا اور اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر قابو پانے کے لئے تعاون اور باہمی مفاہمت کے اصولوں پر مبنی عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں پاکستان اپنا مخلصانہ کردار ادا کررہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھے گا۔