اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور کرغزستان کے آپس میں قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان اور کرغزستا ن کے قریبی تعلقات کے باوجود تجارتی حجم کم ہے، دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے کی اشدضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کرغزستان میں منعقدہ کانفرنس سےورچوئل لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئےکیا۔ کانفرنس کا موضوع ”رابطہ کاری کے دور …
پاکستان اور کرغزستان کے آپس میں قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان اور کرغزستا ن کے قریبی تعلقات کے باوجود تجارتی حجم کم ہے،چیئرمین سینیٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور کرغزستان کے آپس میں قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان اور کرغزستا ن کے قریبی تعلقات کے باوجود تجارتی حجم کم ہے، دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے کی اشدضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کرغزستان میں منعقدہ کانفرنس سےورچوئل لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئےکیا۔ کانفرنس کا موضوع ”رابطہ کاری کے دور میں پاکستان اورکرغزستان: شاہراہ ریشم کا کردار“ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کانفرنس کی بدولت اہم معلومات پر تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ پاکستان اور کرغزستان کے آپس میں قریبی برادرانہ تعلقات ہیں تاہم پاکستان اور کرغزستا ن کے قریبی تعلقات کے باوجود تجارتی حجم کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے کی اشدضرورت ہے۔ باہمی دوطرفہ تجارتی و اقتصادی معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ موجوددور رابطہ کاری کا دور ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ہمیں رابطہ کاری کے مواقعوں سے استفادہ کرتے ہوئے ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔ بی آر آئی منصوبہ وسطی ایشیائی ممالک کیلئے اقتصادی راہدری سے بھرپور استفادہ کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ سی پیک نے پاکستان کیلئے خطے کے ساتھ رابطہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔سی پیک خطے کیلئے ایک گیم چینجز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ سینٹرل ایشیاء، جنوبی ایشیاء، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور یورپ کے ساتھ رابطہ کاری میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔رابطہ کاری کے اس منصوبے سے تین ارب سے زائد افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور امن کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان نے افغان امن عمل کی ہر سطح پر حمایت کی ہے۔ خطے کی رابطہ کاری اور تعاون کو بڑھانے کیلئے امن و سلامتی انتہائی اہم ہے۔ پاکستان وسطیٰ ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل کرنے اور اقتصادی و معاشی نقل وحمل میں تیزی لانے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان آپس کے دو طرفہ تعلقات کو انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔ ہمیں اقتصادی راہداری کے تحت معاشی و اقتصادی ترقی کیلئے مل کر کوششیں کرنی ہوں گی۔ چیئرمین سینیٹ نے کانفرنس کے منتظمین اور لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ کی کاوشوں کی تعریف کی اور کہا کہ کانفرنس کا انعقاد انتہائی اہم موقع پر کیا گیا ہے۔ کانفرنس میں کرغزستان کے وزیر خارجہ، اراکین پارلیمنٹ اور آذربائیجان کے سفیر نے بھی شرکت کی۔








