پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے انسانی حقوق کے حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھائے ، جبری گمشدگی اور صحافیوں کے تحفظ کے لئے بل تیاری کے مراحل میں ہیں، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے انسانی حقوق کے حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھائے، بچوں اور خواتین کے تحفظ اور مظلوم طبقہ کے حقوق کے لئے کام کیا، بچوں اور خواتین پر تشدد کے حوالے سے کئی نئے قوانین بنے، جبری گمشدگی اور صحافیوں کے تحفظ کے لئے بل تیاری کے مراحل میں ہیں، لوگوں …

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے انسانی حقوق کے حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھائے، بچوں اور خواتین کے تحفظ اور مظلوم طبقہ کے حقوق کے لئے کام کیا، بچوں اور خواتین پر تشدد کے حوالے سے کئی نئے قوانین بنے، جبری گمشدگی اور صحافیوں کے تحفظ کے لئے بل تیاری کے مراحل میں ہیں، لوگوں میں ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جاری کئے گئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کیا۔ شیریں مزاری نے کہا کہ 10 دسمبر کو پوری دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے، پاکستان میں بھی ہم انسانی حقوق کا دن مناتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے انسانی حقوق کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے اور کر رہی ہے، ہم نے خاص طور پر بچوں اور خواتین کی حفاظت اور مظلوم طبقہ کے حقوق کے لئے کام کیا ہے اور آگے بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کئی نئے قوانین بنے ہیں جن میں بچوں اور خواتین پر جنسی تشدد کے خلاف نیا آرڈیننس ”اینٹی ریپ آرڈیننس“ اور بچوں پر تشدد کے خلاف زینب الرٹ کا قانون شامل ہے۔ پی ایم سٹیزن پورٹل پر زینب الرٹ ایپ بھی بن چکی ہے جبکہ نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ بھی تشکیل دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین پر تشدد کے خلاف بھی ہم نے ایپ تیار کی ہے جس میں خواتین کو سہولت دی گئی ہے کہ اگر وہ فون پر بات نہیں کر سکتیں تو وہ اپنے فون کا ایک بٹن دبائیں گی تو ایس او ایس میسیج متعلقہ پولیس تک پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف بھی ہم ایک قانون تیار کر رہے ہیں جبکہ صحافیوں کے تحفظ کے لئے بل تیار ہو چکا ہے جسے عنقریب کابینہ میں حتمی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا اور پھر اس کی اسمبلی سے منظوری حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کو ہمارے قانون، آئین اور اسلام میں وراثت میں حق حاصل ہے، ہم اس پر سختی سے عمل درآمد کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ کوئی خاتون وراثت کے حق سے محروم نہ رہے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ خواجہ سراﺅں کے حوالے سے قانون میں ہم ترمیم کر رہے ہیں، حکومت کی کوشش ہے کہ قوانین پر عمل درآمد کیا جائے، ہر شہری کو اس کے حقوق سے آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کے حقوق کیا ہیں، اگر انہیں اپنے حقوق کے بارے میں معلوم نہیں ہوگا تو وہ اپنے حقوق کی حفاظت کس طرح کر سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی ذہنیت بدلیں، کسی کو ان کے حق سے محروم نہ کریں، کسی پر تشدد نہ کریں بالخصوص خواتین اور بچوں پر کیونکہ اس طرح نہ صرف آپ قانون توڑتے ہیں بلکہ آپ معاشرے کو بھی تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ معاشرہ اسی وقت ترقی کرے گا جب حکومت اور شہری مل کر آگے بڑھنے اور آئین پر پوری طرح عمل درآمد کے لئے تیار ہوں گے۔