نوجوانوں کو منشیات سے بچانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں، وفاقی وزیر انسداد منشیات

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسداد منشیات اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ معاشرے سے منشیات کی لعنت کے خاتمہ اور نوجوانوں کو اس سے بچانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں، وزارت انسداد منشیات کا مقصد ایک ایسے ملک کا تصور ہے جو منشیات کے استعمال، سمگلنگ اور تیاری کے خطرہ سے پاک ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں منشیات کے …

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسداد منشیات اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ معاشرے سے منشیات کی لعنت کے خاتمہ اور نوجوانوں کو اس سے بچانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں، وزارت انسداد منشیات کا مقصد ایک ایسے ملک کا تصور ہے جو منشیات کے استعمال، سمگلنگ اور تیاری کے خطرہ سے پاک ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں منشیات کے عادی نوجوانوں کو ذہنی معالج اور ڈاکٹروں سے مشورہ کیلئے ہیلپ لائن کے قیام سے متعلق ای ہیلتھ کلینک نیٹ ورک ”صحت کہانی“ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سیکرٹری نارکوٹکس کنٹرول شعیب دستگیر اور وزارت کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر اعظم خان سواتی نے کہا کہ وزارت انسداد منشیات ایک ایسے ملک کا تصور کرتی ہے جو منشیات کے استعمال، سمگلنگ اور تیاری کے خطرہ سے پاک ہو۔ انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ ”امنگ“ اسی تصور کی سمت ایک قدم ہے۔ اس ہیلپ لائن کے ذریعے سگریٹ نوشی یا منشیات استعمال کرنے والے افراد کو آگاہی بھی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صحت کہانی 24 گھنٹے امنگ ہیلپ لائن کے ذریعے رازداری میں ذہنی صحت کے ماہرین تک رسائی فراہم کرے گی۔ یہ ہیلپ لائن انکرپٹ ہوگی اور فون کرنے والے کا ایک منٹ سے بھی کم وقت میں صحت کہانی کے ذہنی صحت کے ماہرین سے رابطہ ممکن بنائے گی۔ اس سارے عمل میں رازداری کو یقینی بنایا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ معاشرے سے اس لعنت کو ختم کرنے اور نوجوانوں کو اس سے بچانے کے لئے ہر ممکن حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ اس موقع پر صحت کہانی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سارہ سعید خرم نے کہا کہ منشیات استعمال کرنے والے لوگ بدنامی کے خوف سے مدد لینے سے گریز کرتے ہیں۔ ہیلپ لائن اور موبائل ایپلی کیشن رازداری کو یقینی بنائے گی اور اس مسئلہ سے نمٹنے میں مددگار ہوگی۔ صحت کہانی کی چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عفت ظفر آغا نے کہا کہ ملک میں ذہنی امراض کے ماہرین محدود تعداد میں ہیں۔ یہ ہیلپ لائن ذہنی ماہرین کو ہر شہری تک قابل رسائی بنائے گی۔ قبل ازیں وزارت انسداد منشیات نے ای ہیلتھ کلینک نیٹ ورک ”صحت کہانی“ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے جس کے تحت پائلٹ پراجیکٹ ”امنگ“ کے ذریعے منشیات کے عادی افراد کو نفسیات اور ذہنی امراض کے ماہرین سے رابطہ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے ہیلپ لائن قائم کی جائے گی۔ پراجیکٹ ”امنگ“ صحت کہانی اور وزارت انسداد منشیات کے اشتراک سے قائم کی جانے والی ہیلپ لائن کے ذریعے منشیات کے عادی نوجوانوں کو ذہنی معالج اور ڈاکٹروں سے مشورہ کیلئے تین ماہ تک مفت رسائی مل سکے گی۔ پائلٹ پراجیکٹ ہیلپ لائن تین ماہ تک مفت ہوگی۔ توقع ہے کہ ہیلپ لائن جنوری 2021ءکے پہلے ہفتہ میں شروع کر دی جائے گی۔ ہیلپ لائن کے ساتھ ساتھ پروجیکٹ ”امنگ“ ڈیجیٹل اور نان ڈیجیٹل طریقوں سے 360 بیداری مہم بھی شروع کرے گا جس کے ذریعے طلبہ میں ان کی زندگی کی اہمیت، ان کے مستقبل، پاکستان کے مستقبل میں ان کی شراکت کی اہمیت اور منشیات کے تباہ کن اثرات کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے گا۔ وزارت انسداد منشیات پاکستان کو منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نجات دلانے کے لئے بھر پور طریقے سے کام کر رہی ہے۔ اس عظیم مقصد کیلئے صحت کہانی پاکستانی نوجوانوں میں منشیات کی لعنت کے خاتمہ کیلئے بلا معاوضہ ہیلپ لائن فراہم کرنے کیلئے یہ سروس شروع کرے گی۔ صحت کہانی ایک معروف ہیلتھ ٹیکنالوجی سوشل انٹر پرائز ہے جو مریضوں کو ویب/موبائل پر مبنی ایپلی کیشن اور معاون ہیلپ لائن کے ذریعے ٹیلی میڈیسن کی سروس فراہم کر رہی ہے اور 1500 ڈاکٹروں کے آن لائن نیٹ ورک سے منسلک ہے۔