اقوام متحدہ۔10دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین کے گروپ نے رواں سال کے آغاز میں بھارت میں خصوصاً دارالحکومت نئی دہلی اور ریاست اترپردیش میں مسلمانوں پر بھارتی مظالم ، متنازع شہریت بل کے مظاہرین کی ہراسگی ، پرتشدد حملوں اور بھارتی حکومت کی نفرت انگیز تقاریر اور مسلمانوں کو غیرمتناسب طریقے سے ظلم کا نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دوسرا خط بھیج دیا۔ …
انسانی حقوق کے عالمی ماہرین نے بھارت کو مسلمانوں پر مظالم ، نفرت انگیز تقاریر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش پر مبنی دوسرا خط بھیج دیا

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔10دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین کے گروپ نے رواں سال کے آغاز میں بھارت میں خصوصاً دارالحکومت نئی دہلی اور ریاست اترپردیش میں مسلمانوں پر بھارتی مظالم ، متنازع شہریت بل کے مظاہرین کی ہراسگی ، پرتشدد حملوں اور بھارتی حکومت کی نفرت انگیز تقاریر اور مسلمانوں کو غیرمتناسب طریقے سے ظلم کا نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دوسرا خط بھیج دیا۔ جس کے لیے اسے 60 روز کا وقت دیا گیا تھا لیکن بھارت نے ابھی تک جواب نہیں دیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے 7 ماہرین پر مشتمل گروپ کی جانب سے بھارت کو بھیجا گیا دوسرا خط رپورٹس اور شواہد پر مبنی ہے جس میں بتایا گیا کہ بھارت کی حکومتی جماعت بی جے پی کے متعدد رہنمائوں کی نفرت انگیز تقاریر سے رواں سال فروری میں نہ صرف مسلمانوں کے خلاف پرتشدد حملوں میں اضافہ ہوا بلکہ ان کی عبادت گاہوں اور ان کے گھروں اور املاک کو بھی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ۔ خط میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی حکومت نے ملک کی دیگر ریاستوں کی متحرک ہندو قوم پرست تنظیموں جتھوں کی منظم منصوبہ بندی اور سوچی سمجھی سازش پر ہتھیاروں اور گولہ بارود کی سپلائی کے ساتھ یہ حملےپہلےسے تیار منصوبہ کے تحت کئے گئے ۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے اہم سیاسی شخصیات اور اراکین پارلیمنٹ کو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی کی حمایت پر مبنی تقاریر سے نہیں روکا اور نہ ہی ان کے خلاف کارروائی کی گئی جو اس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس سے مسلمانوں پر تشدد اور حملوں میں اضافہ ہوا اور یہی نہیں نئی دہلی اور اترپردیش میں پولیس نے بھی مسلمانوں کے خلاف تشدد میں ہندو پرست تنظیموں کے ہندو جتھوںکا ساتھ دیا اور بھارتی حکومت نے نسلی بنیادوں پر قتل عام کے دہلی کیس کے جج کا تبادلہ کر کے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی ۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے گروپ جسے یو این کے خصوصی طریقہ کار یا تیاری کے نام سے جانا جاتا ہے کی جانب سے بھارت کو یہ خط رواں سال 9 اکتوبر کو بھیجا گیا تھا لیکن بھارت کی جانب سے 60 روز کے اندر جواب نہ دینے کے بعد اس خط کو گزشتہ روز پبلک کیا گیا ۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے 9 ماہرین کے گروپ کی جانب سے بھارت کو پہلا خط 28 کو فروری کو بھیجا گیا تھا جس میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال (متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرین کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ، متنازع شہریت قانون کے خلاف گزشتہ سال 15 دسمبر سے بھارت میں مظاہرے شروع ہوئے جو 55 روز تک جاری رہے ۔ دوسرا خط اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھارت کو جو دوسرا خط بھیجا ہے اس میں عقائد اور مذہبی آزادی کے خصوصی رپورٹر احمد شہید، غیرقانونی گرفتاری پر اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی وائس چیئرمین ایلینا سٹینرٹ، خصوصی رپورٹر کی ماورائے عدالت پھانسیاںاگنیس کیلامرڈ ، خصوصی رپورٹر آزادی رائے اظہار ارینا خان، خصوصی رپورٹر پرامن اجتماع و وابستگی کلیمنٹ نیالتسوسی وولی ،اقلیتوں کے مسائل کے خصوصی رپورٹر فرنینڈ ڈی ویرینس اور خصوصی رپورٹر تشدد نیلس میلزر کے معاملات شامل ہیں۔








