اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہاہے کہ حکومت موثرپالیسی سازی اورہدف پرمبنی اصلاحات کے ذریعہ معیشت کے مبادیات کودرست کرنے میں پرعزم ہے، پائیداراورجامع برھوتری حکومت کا ہدف ہے، مالی سال 2018 میں پاکستان کو کثیرالجتی مالیاتی، بیرونی ادائیگیوں اور رئیل سیکٹر کے چیلنجوں کاسامناتھا، دانش مندانہ پالیسیوں کے نتیجہ میں پاکستان نے مالیاتی اورحسابات جاریہ کے خسارے کے شعبوں میں شاندار بہتری دکھائی، اسی طرح …
حکومت موثرپالیسی سازی اورہدف پرمبنی اصلاحات کے ذریعہ معیشت کے مبادیات کودرست کرنے میں پرعزم ہے، ترجمان وزارت خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہاہے کہ حکومت موثرپالیسی سازی اورہدف پرمبنی اصلاحات کے ذریعہ معیشت کے مبادیات کودرست کرنے میں پرعزم ہے، پائیداراورجامع برھوتری حکومت کا ہدف ہے، مالی سال 2018 میں پاکستان کو کثیرالجتی مالیاتی، بیرونی ادائیگیوں اور رئیل سیکٹر کے چیلنجوں کاسامناتھا، دانش مندانہ پالیسیوں کے نتیجہ میں پاکستان نے مالیاتی اورحسابات جاریہ کے خسارے کے شعبوں میں شاندار بہتری دکھائی، اسی طرح پاکستان کا پرائمری بیلنس فاصل ہوگیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔ جمعرات کویہاں جاری بیان میں ترجمان وزارت خزانہ نے کہاہے کہ پریس کے بعض حصوں میں ایک آرٹیکل شائع ہواہے جس میں اپنی مرضی ومنشا کے مطابق غیرمنطقی اندازمیں موجودہ اورسابق حکومت کے مابین مالیاتی امورکاموازنہ پیش کیاگیاہے محاورے کے مصداق موتیوں کاسیپ سے موازنہ کرتے اس آرٹیکل میں پورے منظرنامہ کوسامنے نہیں رکھا گیاہے۔آرٹیکل لکھنے والے نے سابق حکومت کے دورکو زیادہ بڑھوتری، کم افراط زر، فی کس آمدنی میں اضافہ، کم شرح سود، محصولات میں اضافہ اورزیادہ سرمایہ کاری کی حامل حکومت قراردیاہے، حقیقت یہ ہے کہ مالی سال 2018 میں پاکستان کو کثیرالجتی مالیاتی، بیرونی ادائیگیوں اور رئیل سیکٹر کے چیلنجوں کاسامناتھا مثال کے طورپرتجارتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار یا جی ڈی پی کے 9.8 فیصد کی سطح پرتھا، قدرسے زایدایکسچینج ریٹ کی وجہ سے پاکستان کے زرمبادلہ کے قیمتی ذخائرخرچ ہورہے تھے، یہ دونوں خسارے ریکارڈ سطح پرپہنچ چکے تھے، کھپت کی بنیادپربڑھوتری نے ادائیگیوں میں توازن کابحران اورمالیاتی عدم توازن پیداکردیا تھا۔ترجمان نے کہاکہ موجودہ افراط زر کی جڑیں مالی سال 2018 میں بروقت مالیاتی ایڈجسٹمنٹس میں تاخیرمیں پنہاں ہے جس کے نتیجہ میں موجودہ حکومت کو سخت مالیاتی نظم وضبط نافذ کرنا پڑا، حد سے بڑھے ہوئے حکومتی اخراجات کم کئے گئے،محصولات میں اضافہ کیاگیا ، مارکیٹ کی حرکیات پرمبنی ایکسچینج ریٹ متعارف کرایا گیا، بڑے ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ کیاگیا ، درآمدات کی حوصلہ شکنی کی گئی اورسٹیٹ بینک سے قرضے لینے کاسلسلہ ترک کردیا گیا۔ترجمان نے کہاکہ ان دانش مندانہ پالیسیوں کے نتیجہ میں پاکستان نے مالیاتی اورحسابات جاریہ کے خسارے کے شعبوں میں شاندار بہتری دکھائی، اسی طرح پاکستانکا پرائمری بیلنس فاصل ہوگیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اورکوویڈ 19 کی وبا کے باوجود یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سمندرپارمقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات میں اضافہ کارحجان دیکھنے میں آیا ہے، حکومت نے کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں ہنگامی بنیادوں پر1240 ارب روپے سے زائد کاامدادی پیکج دیا تاکہ کاروبارکوسہارا اوروبا سے متاثرہ شہریوں کوریلیف فراہم کیا جاسکے۔حکومت نے معاشی بحالی کے عمل کوتیزکرنے کیلئے متعدداقدامات بھی کئے ہیں، چھوٹے اوردرمیانہ درجی کے کاروبار(ایس ایم ایز) کیلئے ریلیف پیکج کااعلان کیاگیا تاکہ اس شعبہ میں کیش کامسئلہ نہ ہوں اوراس شعبہ میں کام کرنے والے افراد کے روزگارکوتحفظ فراہم کیا جاسکے۔اسی طرح تعمیرات کے شعبہ کوفروغ دینے کیلئے خصوصی پیکج کااعلان کیاگیا جس میں ایمنسٹی سکیم ، ٹیکس استثنیٰ، اورزراعانت کی فراہمی شامل ہیں تاکہ معاشی بڑھوتری میں اضافہ کیا جاسکے۔ترجمان نے کہاکہ کورونا وائرس کی وبا نے سپلائی چین کومتاثرکیا جس کی وجہ سے اشیائے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تاہم مہنگائی میں کمی کیلئے حکومت نے موثرپالیسی اورانتظامی اقدامات اٹھائے ، ان اقدامات کی وجہ سے ضروری اشیا کی قیمتوں میں مسلسل کمی کارحجان دیکھنے میں آرہاہے۔ترجمان نے کہاکہ حکومت موثرپالیسی سازی اورہدف پرمبنی اصلاحات کے ذریعہ معیشت کے مبادیات کودرست کرنے میں پرعزم ہے، پائیداراورجامع برھوتری حکومت کا ہدف ہے۔








