پاکستان کورونا کے پیدا کردہ حالات میں حصول تعلیم کو آسان بنانے کے لیے سارک ممالک کی جامعات کے ساتھ معاونت کرے گا،چیئرمین ایچ ای سی

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری نے کہا ہے کہ آن لائن تعلیم سے متعلقہ امور ، یعنی مختلف ایپلیکیشنز اور سافٹ ویئر کے استعمال، ای لرننگ کے نظام کے انتظام، فیکلٹی کے استعداد کار میں اضافہ، ناقص انٹرنیٹ کنیکٹوٹی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کی ضرورت کے حوالے سے ایک جیسے تجربات رکھتے ہیں۔ ''تمام سارک رکن ممالک نے کامیابی کے مختلف سطحات کے ساتھ آن …

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری نے کہا ہے کہ آن لائن تعلیم سے متعلقہ امور ، یعنی مختلف ایپلیکیشنز اور سافٹ ویئر کے استعمال، ای لرننگ کے نظام کے انتظام، فیکلٹی کے استعداد کار میں اضافہ، ناقص انٹرنیٹ کنیکٹوٹی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کی ضرورت کے حوالے سے ایک جیسے تجربات رکھتے ہیں۔ ”تمام سارک رکن ممالک نے کامیابی کے مختلف سطحات کے ساتھ آن لائن و فاصلاتی تعلیم کے مسائل کو حال کیا ہے اور سب معلومات کے تبادلے، وسائل کی تقسیم، استعداد کار میں اضافہ ، اور تحقیق کے شعبے میں باہم تعاون سے فائدہ اٹھائیں گے۔”یہ بات انہوں نے سارک رکن ممالک کے وائس چانسلرز، ہائیر ایجوکیشن کمیشنز، یونیورسٹی گرانٹس کمیشنز، اور مساوی اعلٰی تعلیمی اداروں کے نمائندگان کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔پاکستان نے دوروزہ آن لائن اجلاس کی میزبانی کی ، جو کہ جمعرات کے روز اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس میں کورونا وباء کے دوان آن لائن تعلیم کو درپیش چیلنجز اور مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں سارک رکن ممالک کے تمام مندوبین نے اپنے متعلقہ ممالک کی جامعات کی طرف سے موجودہ صورتحال میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ اجلاس میں منعقدہ سیشنز میں آن لائن تعلیم کے لیے درکار ٹیکنالوجیکل لوازمات، مئوثر آن لائن تدریس، معیار کو یقینی بنانے کے لیے لائحہ ہائے عمل، اور آن لائن تعلیم کے لیے امتحانی طریقہ کار جیسے اہم موضوعات پر سیر حاصل گفت وشنید کی گئی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ آن لائن تعلیم روایتی تعلیم سے یکسر مختلف ہے ۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آن لائن تعلیم کو مئوثر بنانے اور آن لائن امتحانات کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات اور تجربات کا تبادلہ ازحد ضروری ہے۔ وائس چانسلرز نے معیار تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے اختیار کیے جانے والے مختلف افکار پر اپنے نظریات کا اظہار کیا۔ اپنے افتتاحی خطاب میں سارک سیکرٹریٹ کی ڈائریکٹر ایجوکیشن، سیکیورٹی اینڈ کلچر مس ورُونی مٹھوکمارانہ کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں تعاون ہمیشہ سارک کے کلیدی نکات میں شامل رہا ہے۔ انہوں نے آن لائن تعلیم کو مزید مئوثر بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مربوط کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس ذریعہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔ انہوں نے سارک کی سطح پر ایک پلیٹ فارم قائم کرنے کی تجویز دی جو تمام ممالک کے مابین معلومات اور تجربات کے تبادلے کا کام کرسکے۔چیئرمین ایچ ای سی پاکستان نےََ کورونا کے پیدا کردہ حالات کے تناظر میں سارک ممالک کے مابین تعلیم شعبے میں تعاون کے فروغ کے حوالے سے تمام شرکاء کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے آن لائن تعلیم کے چیلنجز سے متعلق گراں قدر آراء کے اظہار پر سارک سیکرٹریٹ اور اجلاس کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ ” میں تمام شرکاء کے احساسات کی عکاسی کرتے ہوئے کہوں گا کہ زیر گفتگو آنے والے تمام امور میں جلداز جلد تعاون کے فروغ کی ضرورت ہے۔ اگرچہ مختلف شعبہ جات میں مختلف سطح کی ترقی لائی جاچکی ہے، تاہم ہمیں مختلف شعبہ جات ، مثلاََ ٹیکنالوجی کے استعمال، آن لائن تدریس و تعلیم کی بہتری، امتحانی طریقہ کار میں آسانی ، اور معیار تعلیم کی بہتری ،سے متعلق معلومات و تجربات کے تبادلے سے استفادہ حاصل کرنا ہے۔ ” انہوں نے مزید کہا کہ نئے تدریسی مواد کی باہم دستیابی ، کورسز کی جمع و تدوین، آن لائن تعلیم تک طلباء کی آسان رسائی، اور تدریسی مواد کی تیاری اور طلباء کے لیے دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔