عوام کی زندگی پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، ہم بداحتیاطی کریں گے تو کورونا مزید تیزی سے پھیلے گا، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائےمنصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ عوام کی زندگی پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، ہم بداحتیاطی کریں گے تو کورونا مزید تیزی سے پھیلے گا، کورونا کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے، اپوزیشن جماعتیں نیب قوانین میں ترامیم چاہتی ہیں، کوئی این آر او نہیں دیا جائے گا، احتساب کے جاری عمل پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں …

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائےمنصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ عوام کی زندگی پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، ہم بداحتیاطی کریں گے تو کورونا مزید تیزی سے پھیلے گا، کورونا کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے، اپوزیشن جماعتیں نیب قوانین میں ترامیم چاہتی ہیں، کوئی این آر او نہیں دیا جائے گا، احتساب کے جاری عمل پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے حوالے سے گزشتہ دو ماہ سے صورتحال خراب ہو رہی ہے، کورونا کے کیسز میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کی پہلی لہر میں سب احتیاط کر رہے تھے جبکہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران لوگ ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کر رہے، بداحتیاطی کی وجہ سے کیسز میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کی پہلی لہر کے دوران ملک کے تمام شعبہ ہائے زندگی کے تعلق رکھنے والے افراد یک آواز تھے اور سب نے احتیاط کی اور دوسروں کو بھی احتیاط کرنے کی ترغیب دی جبکہ کورونا کی دوسری لہر کے دوران ہم سب ایک آواز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی لیڈرز کی جانب سے ہی احتیاط نہیں کی جا رہی، سیاسی لیڈرز لوگوں کو جلسو ںمیں بلا رہے ہیں، اس طرح صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ این سی او سی میں بڑے اجتماعات پر پابندی پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا، سندھ نے بڑے اجتماعات پر پابندی کی مخالفت کی تھی،این سی او سی اجلاس میں اپوزیشن نہیں آ رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر نے اپوزیشن کو بلایا تو انہوں نے کمیٹی ماننے سے انکار کر دیا، اپوزیشن نے سپیکر قومی اسمبلی کے اختیارات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ این سی سی اور این سی او سی کے پلیٹ فارم سے فیصلے ہوتے رہے، این سی او سی میں تمام جماعتوں اور صوبائی حکومت کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن این سی او سی میں نہیں آتی، فیصلہ سڑکوں پر چاہتی ہے، معاملے کو سیاست کی نظر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور عوام کی زندگی پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی وہی لیڈرشپ ہے جو کہتی تھی پورا ملک بند کر دو اور آج وہی کہتے ہیں لوگ مرتے ہیں تو مریں ہماری سیاست چلنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جب لانگ مارچ کیا تھا اس وقت (ن) لیگ کے ساتھ مذاکرات ہوئے تھے، مذاکرات میں اس وقت کے وزیراعظم یا آرمی چیف کا عمل دخل نہیں تھا، ہماری مذاکراتی ٹیم اور (ن) لیگ کی مذاکراتی ٹیم کے مابین مذاکرات ہوئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن کے استعفے آ جاتے ہیں تو ضمنی الیکشن آئینی ذمہ داری ہے، اپوزیشن کو بھی پتہ ہے جلسوں سے حکومت نہیں گرتی، پیپلز پارٹی استعفے دینے کی بے وقوفی نہیں کرے گی، اگر اپوزیشن رہنماء استعفے دیں گے تو خالی نشستوں پر ضمنی الیکشن کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، بڑے فیصلے وزیراعظم عمران خان نے کرنے ہیں،وزیراعظم عمران خان نے 2 سال میں بڑے مشکل فیصلے کئے ہیں، وزیراعظم عمران خان کے فیصلوں کی وجہ سے ملک مشکل حالات سے نکلا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے انتخابی اصلاحات کیں، اپوزیشن کو بلایا لیکن اپوزیشن نہیں آئی، کورونا سے متعلق میں نے اپوزیشن رہنمائوں کو بلایا لیکن وہ نہیں آئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نظام کی بہتری اور پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفاد میں کسی بھی معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں، اپوزیشن جماعتیں نیب قوانین میں ترامیم چاہتی ہیں، کوئی این آر او نہیں دیا جائے گا، احتساب کے جاری عمل پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں ملک کو لوٹنے والوں کو نہ چھوڑا جائے، لوگ کہتے ہیں مہنگائی کی پرواہ نہیں لیکن لٹیروں کو نہیں چھوڑنا۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا ویکسین آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی کے آخر میں میسر ہوگی، چین کے ساتھ بھی ویکسین کے حصول کے لئے بات چیت جاری ہے، چین کی کمپنی کے ساتھ کورونا ویکسین کے ٹرائل میں ہم نے بھی شرکت کی۔