کراچی ۔11دسمبر (اے پی پی):کراچی میں تعینات اطالوی قونصل جنرل ڈانیلو جورڈینیلا نے کہا کہ دنیا میں کورونا کے پھیلائو کے باوجوداٹلی اور پاکستان کے مابین اقتصادی اور دفاعی تعلقات مضبوط ہورہے ہیں ، اٹلی پاکستان کو جنوبی ایشیا میں اپنے مضبوط شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے، ہم تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے طریقوں کو تلاش کررہے ہیں، …
اٹلی پاکستان کو جنوبی ایشیا میں مضبوط شراکت دار کے طور پر دیکھ رہاہے،اطالوی قونصل جنرل
کراچی ۔11دسمبر (اے پی پی):کراچی میں تعینات اطالوی قونصل جنرل ڈانیلو جورڈینیلا نے کہا کہ دنیا میں کورونا کے پھیلائو کے باوجوداٹلی اور پاکستان کے مابین اقتصادی اور دفاعی تعلقات مضبوط ہورہے ہیں ، اٹلی پاکستان کو جنوبی ایشیا میں اپنے مضبوط شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے، ہم تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے طریقوں کو تلاش کررہے ہیں، اٹلی پاکستان میں ایک بڑا سرمایہ کارہے اور 2019-20میں اٹلی نے مجموعی طور پر پاکستان میں 56ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی تھی جو پچھلے سال کے مقابلے میں 45فیصد زیادہ ہے، اٹلی نے پاکستان میں توانائی کے شعبوں کے بڑے منصوبوں کے علاوہ دواسازی، کیمیکل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں اطالوی قونصلیٹ کے تحت منعقد کئے جانے والے سالانہ اطالوی کھانوں کے عالمی ہفتہ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اطالوی قونصل جنرل ڈانیلو جورڈینیل متعدد شعبوں میں دونوں ملکوں کے مابین بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، اٹلی کے سامان اور خدمات کی برآمدات کا اہم مقام بنتا جارہا ہے اور پاکستان نے پچھلے سال اٹلی کے ساتھ تجارت کی وجہ سے اضافی تجارتی سرپلس حاصل کیاجبکہ پچھلے سال اٹلی سے 490ملین ڈالر درآمدات کے مقابلے میں پاکستان نے اٹلی کو730ملین ڈالرکی مصنوعات برآمدکیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپین یونین کے اندر اٹلی پاکستان کیلئے پانچویں بڑی برآمدی منڈی ہے۔ ڈانیلو جورڈینیل کہا کہ پاکستان سے اٹلی کو برآمد کی جانے والے اشیا میں ٹیکسٹائل، اناج،کھالیں اور پلاسٹک شامل ہیں جبکہ پاکستان اٹلی سے جہاز، مشینری، دواسازی کی مصنوعات، ہوائی جہاز، کیمیکل اور لوہے کی مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ اطالوی قونصل جنرل ڈانیلو جورڈینیل کہا کہ پاکستانی چاول اٹلی میں نہایت مقبول ہورہے ہیں اور اٹلی میں ان کا مارکیٹ شیئر 38فیصد ہے ، پاکستان ہرسال اٹلی کو تقریبا62ملین ڈالر کا چاول برآمد کرتا ہے۔اطالوی سرمایہ کاروں کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اطالوی سرمایہ کاروں کیلئے سرمایہ کاری کے بہترین مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کررکھا ہے، بڑی آبادی اور معاشی نمو کی بے پناہ صلاحیتوں کے ساتھ پاکستان اٹلی کیلئے ایک مثالی مرکز بنتا جارہا ہے۔اطالوی قونصل جنرل نے کہا کہ اطالوی حکوت مختلف ملکوں سے آئے ہوئے غیر قانونی تارکینِ وطن کو قومی دھارے میں لانے کی بھر پور کوششیں کررہی ہے۔ اس اقدام سے اٹلی میں مقیم پاکستان سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کو سہولت ملے گی۔پاکستانی اور اٹلی کے کھانوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھانے چٹخارے دار ہوتے ہے جبکہ اٹلی کے کھانے سادہ ہوتے ہیں ، پاکستانی کھانوں میں اجزاء زیادہ ہوتے ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں اٹلی کے کھانوں میں اجزاء کم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو پاکستانی کھانوں باربی کیوں بہت پسند ہے ۔ سالانہ اطالوی کھانوں کے عالمی ہفتہ کراچی میں 16دسمبر تک جاری رہے گا۔ جس میں عالمی شہرت یافتہ ایوارڈ ونراطالوی شیف مارکو سراکینو بھی شرکت کررہے ہیں اورپاکستانی فوڈ بلاگرز اور شیف کیلئے تربیتی ورکشاپ منعقد کریں گے۔









