الیکٹورل کالج سے کامیابی کی تصدیق، جمہوریت کی جیت ہوئی،جو بائیڈن

واشنگٹن۔15دسمبر (اے پی پی):امریکہ کےنو منتخب صدر جوبائیڈن نے الیکٹورل کالج کی ووٹنگ کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ملک میں جمہوریت کی فتح ہوئی، اب وہ امریکی قوم کو متحد کرنے کے لیے کام کریں گے۔ریاست ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن سے اپنے خطاب میں جوبائیڈن نے کہا کہ ملک میں حکمرانی کے اُصولوں کو آزمائش میں ڈالا گیا، دھمکیاں دی گئیں لیکن یہ کمزور نہیں …

واشنگٹن۔15دسمبر (اے پی پی):امریکہ کےنو منتخب صدر جوبائیڈن نے الیکٹورل کالج کی ووٹنگ کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ملک میں جمہوریت کی فتح ہوئی، اب وہ امریکی قوم کو متحد کرنے کے لیے کام کریں گے۔ریاست ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن سے اپنے خطاب میں جوبائیڈن نے کہا کہ ملک میں حکمرانی کے اُصولوں کو آزمائش میں ڈالا گیا، دھمکیاں دی گئیں لیکن یہ کمزور نہیں ہوئے۔اپنے خطاب میں جوبائیڈن نے صدر ٹرمپ اور اُن کے حامیوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پر تنقید کرتے ہوئے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال بھی پرامن انتقالِ اقتدار کو نہیں روک سکا۔جوبائیڈن نے کہا کہ ہم نے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود جمہوریت پر اپنا یقین مضبوط رکھا، اداروں پر اعتماد کیا اور الیکشن کی ساکھ کو بچایا۔جوبائیڈن نے کہا کہ کچھ لوگوں کو شاید اب بھی یہ ادراک نہیں کہ جمہوریت امریکی عوام کے دلوں کے ساتھ دھڑکتی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ میں سیاست دان طاقت حاصل نہیں کرتے بلکہ عوام اُنہیں یہ طاقت دیتے ہیں، جمہوریت کی شمع کئی صدیوں سے یہاں روشن ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کوئی عالمگیر وبا، اختیارات کا ناجائز استعمال اس شمع کو نہیں بجھا جا سکتا۔الیکٹورل کالج کی ووٹنگ کے مطابق جو بائیڈن نے 306 جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 232 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے۔صدر ٹرمپ نے الیکٹورل کالج کی ووٹنگ کے بعد بائیڈن کے خطاب پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا۔ تاہم اپنی مختلف ٹوئٹس میں صدر نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو دوہرایا۔