اپوزیشن جس طرح فوج کو نشانہ بنا رہی ہے، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، وزیراعظم عمران خان

چکوال۔26دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جس طرح فوج کو نشانہ بنا رہی ہے، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، وہی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو بھارت پاکستان اور فوج کے خلاف استعمال کرتا ہے، پہلی بار اپوزیشن فوج، آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو ہدف بنا رہی ہے، باتیں جمہوریت کی کرتے ہیں اور فوج کو اقتدار پر قبضے …

چکوال۔26دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جس طرح فوج کو نشانہ بنا رہی ہے، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، وہی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو بھارت پاکستان اور فوج کے خلاف استعمال کرتا ہے، پہلی بار اپوزیشن فوج، آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو ہدف بنا رہی ہے، باتیں جمہوریت کی کرتے ہیں اور فوج کو اقتدار پر قبضے کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں، جن کی کرپشن پر پوری دنیا کے اخباروں اور جریدوں میں مضمون چھپے اور ڈاکومنٹریاں بنیں، آج وہ اپنی چوری کا پیسہ بچانے کے لئے دباو ڈال رہے ہیں، انہیں این آر او دیا تو ملک کے ساتھ اس سے بڑی غدداری نہیں ہوگی، ایک کا بیٹا اور ایک کی بیٹی این آر او کے لئے جلسے کر رہے ہیں، ان کی قابلیت صرف یہ ہے کہ ان کے باپ کرپٹ ترین ہیں اور یہ حلال کے پیسے پر نہیں پلے، عام آدمی کی زندگی میں بہتری لا رہے ہیں، ملک پر قرضوں کا بوجھ کم کریں گے، لوکل گورنمنٹ سسٹم سے تعلیم، صحت، گورننس اور پولیس کے نظام کو بہتر کریں گے، ایسا منصوبہ بنا رہے ہیں کہ ملک میں کوئی بھوکا نہ سوئے۔ ہفتہ کو یہاں یونیورسٹی آف چکوال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج میں چکوال ایسے منصوبے لے کر آیا ہوں جن سے معاشرہ بدلتا ہے، تبدیلی ذہن بدلنے سے آتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چکوال، جہلم اور میانوالی ایسے علاقے ہیں جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ پاکستانی فوج میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان علاقوں کے لوگوں کی ملک کے لئے قربانیاں ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن نے فوج پر اس طرح کا حملہ کیا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اس سے قبل جنرل (ر) مشرف پر بھی تنقید ہوتی تھی لیکن وہ سیاست میں تھے اور ملک کے صدر تھے۔ اب جو زبان فوج کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے وہ ہندوستان کی زبان ہے۔ بھارت پاکستان اور پاکستان کی فوج کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے یہ زبان استعمال کرتا ہے۔ یورپی یونین نے یہ انکشاف کیا کہ بھارت نے ایسی 700 جعلی ویب سائیٹس بنائی تھیں جن کے ذریعے پاکستان اور پاکستان کی فوج کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا تھا۔ مرے ہوئے لوگوں اور جعلی اخبارات کے نام پر بھی ویب سائیٹس اور اکائونٹس بنا رکھے تھے جن کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے خلاف ایسا پروپیگنڈا کیا جائے کہ پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری نہ کرے اور پاکستان کی فوج کمزور ہو۔ اسے ایک دہشت گرد اور روگ آرمی کے طور پر پیش کیا جائے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ یہ ویب سائیٹس اور اکائونٹس جو فوج کو بدنام کرنے کے لئے استعمال ہو رہے تھے، کے ذریعے اے پی ڈی ایم کو بھی پروموٹ کیا جا رہا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پہلی بار کوئی اپوزیشن اپنے ملک کی فوج، آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو ٹارگٹ کر رہی ہے۔ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ فوج نے دھاندلی کرائی اور موجودہ حکومت سلیکٹڈ ہے، کوئی ان سے پوچھے کہ اگر دھاندلی ہوئی ہے تو کیا کسی فورم پر انہوں نے دھاندلی کی شکایت کی، کیا یہ کسی فورم پر گئے۔ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں اس لئے فوج کو ہدف بنانا شروع کر دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 30 سال سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ملک کو لوٹا، ان کے خلاف دنیا کے بڑے بڑے اخباروں اور جریدوں میں مضمون چھپے اور ان کی کرپشن پر بی بی سی جیسے اداروں نے ڈاکومنٹریز بنائیں، یہ خود ایک دوسرے کو چور کہتے رہے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف مقدمات بنائے، جیلوں میں ڈالا اور اب اپنی چوری کا پیسہ بچانے کے لئے ایک ہو گئے ہیں اور فوج کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ 73 سالوں کی تاریخ میں کبھی اتنی زیادہ انتہاءپسند، متعصب پاکستان اور اسلام دشمن حکومت نہیں آئی جیسا کہ اب مودی کی صورت میں ہے۔ ایسے وقت میں فوج کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسے کہا جا رہا ہے کہ جمہوری حکومت گرا دے اور اگر آرمی چیف حکومت نہ ہٹائے تو فوج اس آرمی چیف کو ہٹا دے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن باتیں جمہوریت کی کرتی ہے لیکن فوج کو اقتدار پر قبضے کی دعوت دے رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک فوج ملک کے لئے قربانیاں دے رہی ہے، پاکستان کے خلاف جو دہشت گردی انضمام شدہ اور دوسرے علاقوں میں کی جا رہی ہے، ہمیں پتہ ہے کہ کہاں سے ہو رہی ہے۔ ہر طرف سے انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اپوزیشن جس طرح کے طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے ایسا پہلے کبھی کسی اپوزیشن نے نہیں کیا۔ ان کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ان کو این آر او چاہئے، 30 سالوں سے یہ لوگ جو ملک میں چوری کر رہے ہیں، اب اس چوری کے پیسے کو بچانے کے لئے بلیک میل کر رہے ہیں اور دباو ڈال رہے ہیں کہ ان کی چوری معاف کر دی جائے اور انہیں این آر او دے دیا جائے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگر ان چوروں کو کسی حکومت نے این آر او دیا تو ملک کے ساتھ اس سے بڑی غدداری نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) مشرف نے ان کو این آر او دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 10 سالوں میں ملک کا قرضہ چار گنا بڑھ گیا، کوئی بتائے کہ یہ پیسہ کدھر گیا۔ ملک کا قرضہ ان دونوں پارٹیوں کو این آر او ملنے کی وجہ سے 6 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 30 ہزار ارب روپے ہو گیا۔ ہم نے پہلے سال جتنا ٹیکس جمع کیا اس میں سے آدھا ان قرضوں کے سود کی ادائیگی میں چلا گیا جو سابقہ حکومتوں نے لئے تھے۔ پہلے سال 4 ہزار ارب جمع کئے جس میں سے 2 ہزار ارب قرضوں کی مد میں چلے گئے۔ دوسرے سال 2700 ارب قرضوں کی قسطیں واپس کرنے میں خرچ ہو گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب اوپر کرپٹ لوگ ہوں تو وہ سارے ملک کا نظام کرپٹ کر دیتے ہیں۔ اگر ہم نے ان بڑے کرپٹ لوگوں کو سزا نہیں دینی تو پھر چھوٹوں کو سزائیں دینے کا کیا جواز ہے۔ اگر ہم نے ان کو سزا نہیں دی تو اپنے بچوں کو کیا پیغام دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپنی قوم کو میں بار بار یاد کراتا ہوں کہ طاقت ور لوگوں کو این آر او دینے والی قومیں برباد ہو جاتی ہیں۔ یورپ میں جب صنعتی انقلاب آیا تو وہاں جمہوری جدوجہد بھی شروع ہوئی اور ان کی قیادت میرٹ پر آنا شروع ہو گئی جس نے قانون کے تابع رہ کر کام کیا، مدینہ کی ریاست جمہوری ڈھانچے پر قائم تھی جس میں خلیفہ عام آدمی کے سامنے بھی قابل احتساب تھا۔ حضرت عمرؓ جیسے حاکم سے بھی عوام سوال کرتے تھے۔ قانون کی بالادستی اور میرٹ سے معاشرے اوپر گئے، یورپ جمہوریت کی طرف گیا لیکن ہم جمہوریت سے بادشاہت کی طرف چلے گئے۔ بادشاہت کا نظام ایسا ہوتا ہے جس میں حکمران قابل احتساب نہیں ہوتے اور میرٹ کا نظام نہیں ہوتا۔ دونوں جماعتوں کے لیڈر جو تیس سال سے چوری کر کے ارب پتی بن گئے، آج خود بھی باہر ہیں اور ان کے بچے بھی۔ اب ایک کا بیٹا اور ایک کی بیٹی این آر او کے لئے جلسے کر رہے ہیں، ان کی کیا قابلیت ہے جو پارٹی کے سربراہ بنے ہوئے ہیں۔ تجربہ اور قابلیت کے بغیر تو کوئی نوکری پر بھی نہیں رکھتا جبکہ ان کی اہلیت صرف یہ ہے کہ ان کے باپ کرپٹ ترین ہیں، انہوں نے زندگی میں کبھی ایک گھنٹہ بھی کام نہیں کیا اور یہ حلال کے پیسوں پر نہیں پلے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی، نبی کریم نے جنگ بدر کے بعد مکہ کے کفار جو قید میں آئے، کی رہائی کے عوض مسلمانوں کو پڑھانے کی شرط عائد کی۔ ماضی میں الیکشن جیتنے کے لئے منصوبے بنائے جاتے رہے، ہم نے اگلے الیکشن کا نہیں آنے والی نسلوں کا سوچنا ہے۔ ہمارے ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہیں تعلیم، ہنر اور فنی تربیت کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔ چکوال یونیورسٹی اور سینٹر آف ایکسیلنس جیسے منصوبوں سے ملک کے نوجوانوں کو بہترین مواقع میسر آئیں گے۔ مجھے اپنی نمل یونیورسٹی پر فخر ہے جس میں 90 فیصد طلباءسکالر شپ پر پڑھ رہے ہیں۔ 75 فیصد بچے اردو میڈیم کے ہیں، ان کے تعلیمی نتائج شاندار ہیں اور یہ بریڈ فورڈ یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کر رہے ہیں۔ جب غریب بچوں کو مواقع ملتے ہیں تو یہ بہت آگے جاتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ 50 بیڈ کا ہسپتال بھی اس علاقے کی ضرورت تھی لیکن جتنے ہسپتالوں کی ملک میں ضرورت ہے حکومت اتنے ہسپتال نہیں بنا سکتی، اس لئے ہم نے ہیلتھ کارڈ متعارف کرایا ہے جس سے صحت کا ایک ایسا نظام قائم کیا جائے گا جو امیر ملکوں میں بھی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ہر خاندان کے پاس یونیورسل ہیلتھ کوریج ہوگی جس کے ذریعے وہ کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کرا سکیں گے۔ اس طرح کی سہولت امیر ترین ملکوں میں بھی نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا ہدف یہ ہے کہ جب پانچ سال بعد ہماری حکومت کا اختتام ہو تو پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا ہو جائے۔ ہمیں ورثہ میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ ملا جبکہ اب کرنٹ اکائونٹ سرپلس میں چلا گیا ہے۔ اگرچہ اب بھی ہماری آمدن کم ہے لیکن اگر قرضوں کی قسطیں ادا نہ کرنا ہوں تو ہم خسارے میں نہیں ہیں۔ جب ہمارے پانچ سال پورے ہوں گے تو قرضوں کا بوجھ کم ہو چکا ہوگا۔ عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ نئے لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت بلدیاتی الیکشن سے انقلابی تبدیلی آئے گی، سکولوں، صحت کے نظام اور گورننس کو بہتر کریں گے، پولیس کا نظام بھی ٹھیک کیا جائے گا اور پانچ سال میں عام آدمی کو نظر آئے گا کہ پولیس ٹھیک ہو گئی ہے۔ پولیس کو ایسا بنائیں گے کہ لوگ اسے اپنا سمجھیں۔ احساس پروگرام کو دنیا سراہ رہی ہے، کورونا وباءکے دوران ہم نے جس طرح شفافیت سے مختصر وقت میں بے تحاشہ پیسا غریب لوگوں تک پہنچایا، اس کی دنیا معترف ہے۔ ہم نے چین سے سیکھا کہ کیسے اپنے لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے۔ پانچ سال بعد نظر آئے گا کہ غربت بہت کم ہو گئی ہے۔ ہم ایسا نظام لا رہے ہیں کہ کوئی بھوکا نہیں سوئے گا۔

مزید خبریں