پی ڈی ایم گزشتہ دو ماہ سے حکومت کو ڈیڈ لائن دے رہی ہے، لانگ مارچ کی حسرت بھی پوری کر لیں، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی نجی ٹی وی سے گفتگو

اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) گزشتہ دو ماہ سے حکومت کو ڈیڈ لائن دے رہی ہے، ان لوگوں کی جلسیوں، ریلیوں اور قومی اداروں کے خلاف تقاریر کا نتیجہ صفر نکلا، لانگ مارچ کی حسرت بھی پوری کر لیں، پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحمان کو آزادی …

اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) گزشتہ دو ماہ سے حکومت کو ڈیڈ لائن دے رہی ہے، ان لوگوں کی جلسیوں، ریلیوں اور قومی اداروں کے خلاف تقاریر کا نتیجہ صفر نکلا، لانگ مارچ کی حسرت بھی پوری کر لیں، پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ میں بھی دغہ دیا تھا، اس بار بھی آخری وقت میں کئی سیاسی جماعتیں غائب ہو جائیں گی، اس وقت ن لیگ کا کوئی سٹیک نہیں ہے، پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت ہے وہ کیوں دیگر سیاسی جماعتوں کیلئے قربانی دے گی، مریم نواز کی کریڈیبلٹی کیا ہے، ان کا سارا سیاسی سفر جھوٹ پر مبنی ہے، ان کے بیان پر تبصرہ کرنا بے کار ہے، حکومت نے مذاکرات کیلئے اپوزیشن کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا، پی ڈی ایم کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن جن ایشوز پر یہ لوگ بات کرنا چاہتے ہیں اس پر بات نہیں ہو سکتی۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو وزیراعظم عمران خان کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو وہ ہوں گے نہیں، دونوں اپنے اپنے ابو کو بدعنوانی کیسز میں ریلیف دلوانا اور این آر او چاہتے ہیں، جو انہیں نہیں ملے گا۔ شبلی فراز نے کہا کہ پی ڈی ایم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، ان کے پے در پے جلسے اور ساری حکمت عملی ناکام ہو گئی ہے، اب یہ لوگ اپنی چوری بچانے کیلئے لانگ مارچ کی صورت میں آخری کوشش کرنا چاہتے ہیں، جلسوں کی طرح انہیں اس میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ انہوں نے مان لیا کہ وزیراعظم عمران خان این آر او دے سکتے ہیں لیکن وہ کسی صورت میں بدعنوان عناصر کو این آر اونہیں دیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں لانگ مارچ کا شوق بھی پورا کر لیں، اسلام آباد آئیں اسی طرح ہمارے سندھی بھائی اسلام آباد بھی دیکھ لیں گے لیکن یہ لانگ مارچ کریں گے نہیں، ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحمان کو گزشتہ سال آزادی مارچ میں بھی دغہ دیا تھا اور آخری وقت پر دونوں جماعتیں پیچھے ہٹ گئی تھیں، اس بار بھی آخری وقت میں کئی سیاسی جماعتیں غائب ہو جائیں گی، پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت ہے وہ کسی صورت میں دیگر سیاسی جماعتوں کیلئے قربانی نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی حرف تنقید وزیراعظم عمران خان ہیں اور انہوں نے اسے ذاتی دشمنی بنا لیا ہے، وزیراعظم عمران خان کی کسی سے ذاتی لڑائی نہیں ہے، یہ ملک کی بقاءکی جنگ ہے، جن لوگوں نے لوٹ کھسوٹ کر کے ملک کو دیوالیہ کیا انہیں حساب دینا ہو گا۔ شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک ملک کے نہیں ذاتی مفاد کیلئے ہے، لانگ مارچ کیلئے ہیلے بہانے کر رہے ہیں، جن لوگوں کا مقصد ہوتا ہے وہ سردی گرمی نہیں دیکھتے، جلسوں میں ناکامی کے بعد اپوزیشن لانگ مارچ کو آگے بڑھا رہی ہے، یہ لوگ وقت چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کو لانگ مارچ میں شرکت کیلئے راضی کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ق لیگ، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے حکومت کی اتحادی جماعتیں ہیں لیکن ان کی اپنی سیاست ہے، محمد علی درانی پرانے سیاست دان ہیں، انہوں نے اپنے تعلقات پر شہباز شریف سے ملاقات کی ہو گی، وہ حکومت کے کہنے پر نہیں گئے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی کریڈیبلٹی کیا ہے، ان کا سارا سیاسی سفر جھوٹ پر مبنی ہے، ان کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ارجنٹائن میں کوئی فٹ بال میچ ہار جائے تو اس کا ذمہ دار بھی وزیراعظم عمران خان کو سمجھتی ہیں، ان کے بیان پر تبصرہ کرنا بے کار ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں شبلی فراز نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کیلئے اپوزیشن کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا، تحریک انصاف جمہوری حکومت ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ آئیں کیونکہ یہ مسائل پر بات چیت کیلئے بہترین فورم ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا فیصلہ ہے۔

مزید خبریں