اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سال 2020ء میں پاکستان نے کورونا وباء کا بہادری سے مقابلہ کیا، پیپلز پارٹی ضمنی الیکشن میں حصہ لے گی اور سینٹ الیکشن میں بھی حصہ لے گی، 31 مارچ کے بعد اپوزیشن جماعتیں اپنا رنگ دکھائیں گی، اپوزیشن سیاسی انتشار پھیلا رہی ہے، آصف زرداری نے ہمیشہ سیاسی بحرانوں میں اپنے لئے راستہ بنایا، مولانا …
سال 2020ء میں پاکستان نے کورونا وباء کا بہادری سے مقابلہ کیا، پیپلز پارٹی سینٹ الیکشن میں حصہ لے گی تو پھر مسلم لیگ (ن) بھی پیچھے نہیں ہٹے گی، مودی ایک فاشسٹ رہنما ہے، وہ صورتحال کو خراب کرنا چاہتا ہے، وفاقی وزیر داخلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سال 2020ء میں پاکستان نے کورونا وباء کا بہادری سے مقابلہ کیا، پیپلز پارٹی ضمنی الیکشن میں حصہ لے گی اور سینٹ الیکشن میں بھی حصہ لے گی، 31 مارچ کے بعد اپوزیشن جماعتیں اپنا رنگ دکھائیں گی، اپوزیشن سیاسی انتشار پھیلا رہی ہے، آصف زرداری نے ہمیشہ سیاسی بحرانوں میں اپنے لئے راستہ بنایا، مولانا فضل الرحمان کا کردار آصف زرداری کے آگے نہیں چل سکتا، پیپلز پارٹی سینٹ الیکشن میں حصہ لے گی تو پھر مسلم لیگ (ن) بھی پیچھے نہیں ہٹے گی، سورج مغرب سے نکل سکتا ہے لیکن نواز شریف کبھی بھی ان حالات میں پاکستان واپس نہیں آئیں گے، مودی ایک فاشسٹ رہنما ہے، وہ صورتحال کو خراب کرنا چاہتا ہے، بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی تو یہ آخری معرکہ ہوگا، ختم نبوتۖ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ختم نبوتۖ کے خلاف بات کرنے والے زبان گدی سے کھینچ لی جائے گی۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو مختلف نجی ٹی وی چینلز کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ کورونا وباء کی وجہ سے معاشی بحران کے باوجود حکومت اور پاک فوج نے وبائی صورتحال میں تاریخی کردار ادا کیا، فوج ہر مشکل گھڑی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت اور پاک فوج نے کورونا وائرس اور ٹڈی دل کا بہترین انداز میں مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 31 مارچ کے بعد اپوزیشن جماعتیں اپنا رنگ دکھائیں گی، یقیناً مارچ کے بعد اپوزیشن لانگ مارچ کرے گی،مارچ کے بعد پتہ چلے گا کہ سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اگر اپوزیشن جماعتیں لانگ مارچ کریں گی تو جس طرح کی کیفیت پیدا ہوگی حکومت اسی قسم کا فیصہ کرے گی، قانون اور امن و امان کی صورتحال کو بحال رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی فساد کی جڑ مولانا فضل الرحمان ہیں، مولانا فضل الرحمان کا کردار آصف زرداری کے آگے نہیں چل سکتا، آصف زرداری نے ہمیشہ سیاسی بحرانوں میں اپنے لئے راستہ بنایا، اپوزیشن سیاسی انتشار پھیلا رہی ہے، اپوزیشن کو اس سیاسی انتشار کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ نقصان ہوگا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ استعفے کہاں گئے جو مریم نواز منہ پر مارنا چاہتی تھیں، مسلم لیگ (ن) کے دو ارکان نے استعفے دیئے اور سپیکر اسمبلی کے بلانے پر وہ انکاری ہو گئے، اپوزیشن رہنمائوں نے جتنے استعفے دیئے ہیں وہ کمپیوٹر سے دیئے ہیں، کمپیوٹرائزڈ استعفوں کی کوئی اہمیت نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے استعفے تحریری طور ممبر پارلیمنٹ نے خود دینا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سیاست ختم ہو چکی، نواز شریف کا پاسپورٹ 16 فروری کو ختم ہو رہا ہے اور وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ نواز شریف کے پاسپورٹ کی اب توسیع نہیں ہوگی، سورج مغرب سے نکل سکتا ہے لیکن نواز شریف کبھی بھی ان حالات میں پاکستان واپس نہیں آئیں گے، نواز شریف کو پاسپورٹ جاری بھی کر دیں پھر بھی وہ وطن واپس نہیں آئیں گے، شہزاد اکبر نواز شریف کو واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) خلاء میں لٹک رہی ہے، یا تو آسمان کو ہاتھ لگانا ہوتا ہے یا زمین پر پائوں رکھنے ہوتے ہیں، خلاء میں لٹکنے سے فیصلے نہیں ملتے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن استعفے نہیں دے گی، اپوزیشن جماعتیں مارچ میں سینٹ الیکشن میں حصہ لیں گی، پیپلز پارٹی نے اپنا جائز سیاسی فیصلہ کیا ہے، پیپلز پارٹی ضمنی الیکشن میں حصہ لے گی اور سینٹ الیکشن میں بھی حصہ لے گی، بلاول بھٹو نے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت اسمبلیوں میں بھی حکومت کا مقابلہ کرے گی، پیپلز پارٹی سینٹ الیکشن میں حصہ لے گی تو پھر مسلم لیگ (ن) بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ مفتی کفایت کا کیس وزارت داخلہ نے قانون کے دائرے میں بنایا، مفتی کفایت نے غیر ذمہ دارانہ باتیں کیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کی گرفتاری کے بارے میں وزارت داخلہ میں کسی کو علم نہیں تھا، خواجہ آصف کی گرفتاری کا تعلق نیب سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2021ء عالمی سطح پر جوڈو کراٹے کا سال ہوگا، پاکستان افغانستان میں جاری امن عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، مودی ایک فاشسٹ رہنما ہے، وہ صورتحال کو خراب کرنا چاہتا ہے، بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی تو یہ آخری معرکہ ہوگا، اگر جنگ ہوئی تو یہ بڑی جنگ ہوگی، اگر کوئی بھی پاکستان کی سرحدوں پر دراندازی کرنے کی کوشش کرے گا تو پاکستان اس کو کبھی برداشت نہیں کرے گا اور بھرپور جواب دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان کسی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے، اسرائیل قابل قبول نہیں ہے، ختم نبوتۖ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ختم نبوتۖ کے خلاف بات کرنے والے کی زبان گدی سے کھینچ لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت اتنی اہم ہے کہ امریکہ بھی اس کو نظر انداز نہیں کر سکتا، بائیڈن کے آنے کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے، جنوری میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتیں ملک میں لوٹ مار کر کے چلی گئیں، اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں میں وراثت کی سیاست ہو رہی ہے، یہ لوگ ان ہی تنخواہوں پر کام کریں گے، پیپلز پارٹی میں بلاول بھٹو کی نہیں بلکہ آصف زرداری کی سیاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے سال میں ہماری حکومت نے کارکردگی مزید بہتر کرنا ہوگی، 2021ء میں وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں عوام کی خدمت کریں گے، تحریک انصاف میں عمران خان کے علاوہ کوئی لیڈر نہیں، ہمارے پاس عمران خان کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے، عمران خان کو ہی تحریک انصاف سمجھتا ہوں، پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، 2021ء میں پاکستان کی معیشت مزید بہتر ہوگی۔








