تیزی سے بدلتے رجحانات، جدید ترین ٹیکنالوجیز کے استعمال اور کورونا وائرس کی وبا سے منسلک بحران سے قومی و بین الاقوامی سطح پر روزگار متاثر ہو رہے ہیں، عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ

اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):تیزی سے بدلتے رجحانات، جدید ترین ٹیکنالوجیز کے استعمال اور کورونا وائرس کی وبا سے منسلک بحران سے قومی و بین الاقوامی سطح پر روزگار متاثر ہو رہے ہیں۔ مستقبل میں محفوظ روزگار عالمی برادری کا مشترکہ مسئلہ بند چکا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم ڈبلیو ای ایف کی "روزگار کا مستقبل" رپورٹ کے مطابق تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی رجحانات ، پیداواری عمل میں جدید ٹیکنالوجیز …

اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):تیزی سے بدلتے رجحانات، جدید ترین ٹیکنالوجیز کے استعمال اور کورونا وائرس کی وبا سے منسلک بحران سے قومی و بین الاقوامی سطح پر روزگار متاثر ہو رہے ہیں۔ مستقبل میں محفوظ روزگار عالمی برادری کا مشترکہ مسئلہ بند چکا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم ڈبلیو ای ایف کی "روزگار کا مستقبل” رپورٹ کے مطابق تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی رجحانات ، پیداواری عمل میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال اور کووڈ۔19 سے منسلک بحران کی وجہ سے روزگار کامستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق روزگار کی فراہمی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے عالمی برادری کے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ عالمی اقتصادی فورم نے کہا ہے کہ اس حوالہ سے سکلز گیپ کے خاتمہ ، گورننس کی بہتری اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کی ضرورت ہے۔ افرادی قوت کی ہنرمندی اور مہارتوں کے لئے نوجوان افرادی قوت کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے کارکنوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ کارکنوں کی مہارتوں کو نکھارا جا سکے۔ اس حوالے سے جدید تحقیق سے استفادہ پر فوکس کرنا ہو گا۔ ڈبلیو ای ایف نے کہا ہے کہ کارکنوں کی ہندرمندی میں اضافہ اور ان کو نئی مہارتوں کی تربیت فراہم کرکے ان کے روزگار کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں فورم نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تبدیلی روزگار کے تحفظ اور حصول میں رکاوٹ نہیں بلکہ نئی نئی مہارتوں اور ہنر مندی سے روشناسی ضرورت بن چکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی متعارف ہونے سے ایک طرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں تو دوسری جانب کچھ نوکریوں کے متبادل نوکریاں پیدا ہوتی ہیں اور بعض میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔