چین میں2020 ءکے دوران سب سے زیادہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی ،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ ۔26جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باوجود 2020 ءکے دوران سب سے زیادہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاریچین میں ہوئی جس کا حجم 163 ارب ڈالر رہا،امریکا 134 ارب ڈالر ایف ڈی آئی کے ساتھ دوسرے نمبر پررہا۔رائٹرز نے یونائٹڈ نیشنز کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کی گزشتہ روز جاری ہونے والی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ کورونا وائرس کے باوجود …

اقوام متحدہ ۔26جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باوجود 2020 ءکے دوران سب سے زیادہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاریچین میں ہوئی جس کا حجم 163 ارب ڈالر رہا،امریکا 134 ارب ڈالر ایف ڈی آئی کے ساتھ دوسرے نمبر پررہا۔رائٹرز نے یونائٹڈ نیشنز کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کی گزشتہ روز جاری ہونے والی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ کورونا وائرس کے باوجود چین 2020 ءکے دوران براہ راست عالمی سرمایہ کاری کا بڑا مرکز رہا، سال کے دوران ملک میں ایف ڈی آئی کا مجموعی حجم 163 ارب ڈالر رہا جبکہ سب سے بڑی عالمی معیشت میں صرف 134 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔ 2019 ءکے دوران امریکا میں 251 ارب ڈالر جبکہ چین میں 140 ارب ڈالر سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ چین نے کورونا وائرس مسائل کے باوجود اپنی معیشت کو مستحکم کیا بالخصوص 2020 ءکی آخری سہ ماہی میں اس کی شرح نمو میں تیزی آئی، سال کے دوران چین کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 2.3 فیصد رہی اور یہ واحد بڑی معیشت تھی جس کی شرح نمو مثبت رہی ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال کے دوران عالمی سطح پر ایف ڈی آئی کا کل حجم 859 ارب ڈالر رہا جو 2019 ءکے 1.5 ٹریلین ڈالر سے 42 فیصد کم ہے۔2020 ءکے دوران لاطینی امریکا اور کیریبین علاقوں میں ایف ڈی آئی میں سالانہ بنیاد پر 37 فیصد ، افریقا میں 18 فیصد جبکہ ترقی پذیر ایشیا میں 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ سال عالمی ایف ڈی آئی کا ایک تہائی حصہ مشرقی ایشیا میں رہاجبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کی شرح میں سالانہ بنیاد پر 69 فیصد کمی ہوئی۔