کراچی۔16فروری (اے پی پی):دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کی آرا اور بینک دولت پاکستان کی سفارشات کی بنیاد پر وفاقی حکومت نے ٹیکس لاز (ترمیمی) آرڈیننس 2001 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2021 میں کئی ترامیم کی ہیں تاکہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹس (آر ڈی اے) رکھنے والے غیر مقیم پاکستانیوں کے لیے ٹیکسیشن نظام کو سادہ، سہل اور مشکلات سے پاک بنایا جاسکے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے منگل کو …
حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے لیے سادہ اور سہل ٹیکس نظام کا اعلان کردیا

مزید خبریں
کراچی۔16فروری (اے پی پی):دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کی آرا اور بینک دولت پاکستان کی سفارشات کی بنیاد پر وفاقی حکومت نے ٹیکس لاز (ترمیمی) آرڈیننس 2001 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2021 میں کئی ترامیم کی ہیں تاکہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹس (آر ڈی اے) رکھنے والے غیر مقیم پاکستانیوں کے لیے ٹیکسیشن نظام کو سادہ، سہل اور مشکلات سے پاک بنایا جاسکے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے منگل کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان ترامیم سے روشن ڈجیٹل اکانٹس رکھنے والے غیر مقیم پاکستانیوں کے لیے ٹیکس قوانین پر عملدرآمد آسان ہوگیا ہے اور اس کی لاگت کم ہوگئی ہے۔ اپنے روشن ڈجیٹل اکانٹ کے ذریعے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر مقیم پاکستانی پہلے ہی مکمل اور حتمی ٹیکسیشن نظام کے ماتحت تھے تاہم ان ترامیم سے مکمل اور حتمی ٹیکس نظام کے دائرے کو وسیع کرکے اس میں (الف)روشن ڈجیٹل اکائونٹ کے ذریعے میوچل فنڈ سرمایہ کاریوں اور حصص پر منافع منقسمہ (dividends)اور کیپٹل گین اور(ب)روشن ڈجیٹل اکائونٹ کے ذریعے رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاریوں پر کیپٹل گین کو شامل کردیا ہے۔
نتیجے کے طور پر مندرجہ بالا مدوں کے تحت روشن ڈجیٹل اکائونٹس کے ذریعے کی گئی سرمایہ کاری پر ہونے والی آمدنی پر ٹیکس گوشوارے داخل نہیں کرنا ہوں گے۔ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی شرط ختم ہونے سے روشن ڈجیٹل اکانٹس رکھنے والے غیر مقیم پاکستانیوں کو ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (اے ٹی پی ایل)میں نام نہ ہونے کے باعث لگنے والے جرمانے (ٹیکس ریٹ دگنا ہوجانا)سے محفوظ کردیا گیا۔
مزید یہ کہ روشن ڈجیٹل اکانٹس رکھنے والے غیر مقیم پاکستانیوں پر نقد رقم نکلوانے اور نان فائلر پر لاگو بینک ٹرانسفرز پر ٹیکس کا اطلاق بھی نہیں ہوگا۔اگرچہ روشن ڈجیٹل اکائونٹس کے ڈپازٹس کے قرض پر ہونے والا نفع ٹیکس سے مستثنی ہے تاہم نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے منافع پر ٹیکس کی شرح غیر مقیم پاکستانیوں اور بیرون ملک اثاثے ڈکلیئر کرنے والے مقیم پاکستانیوں دونوں کے لیے 10 فیصد اور میوچل فنڈز اور کمپنیوں (ماسوائے آئی پی پیز اور ٹیکس سے مستثنی کمپنیوں کے لیے جن سے بالترتیب 7.5فیصد اور 25فیصد ٹیکس لیا جاتا ہے)سے ملنے والے منافع منقسمہ پر15 فیصد ہے۔ حصص اور میوچل فنڈز پر کیپٹل گین پر بھی ٹیکس 15 فیصد ہے، یہ وہی شرح ہے جو فائلرز پر لاگو ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ رئیل اسٹیٹ کی خریداری اور فروخت دونوں کے وقت غیر مقیم پاکستانیوں پر خریداری/فروخت کی قیمت کی ایک فیصدکے مساوی ٹیکس کااطلاق ہوگاجو روشن ڈجیٹل اکائونٹس کے ذریعے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے کیپٹل گین پر غیر مقیم پاکستانیوں کی ٹیکس کی ذمہ داری کی مکمل اور حتمی بریت شمار ہوگی۔ ٹیکسیشن نظام کو سادہ بنانے کے اس عمل سے امکان ہے کہ روشن ڈجیٹل اکانٹس اسکیم کو مزید بڑھاوا ملے گا، جس میںاپنے آغاز سے اب تک پانچ مہینے میں سمندر پار پاکستانیوںسے معقول رقوم آ چکی ہیں۔ روشن ڈجیٹل اکانٹ اسٹیٹ بینک کا زبردست پروگرام ہے جس کا مقصد سمندر پار پاکستانیوں کو پاکستان کے بینکاری اور ادائیگی کے نظام سے منسلک کرنا ہے۔ آئندہ بھی اسٹیٹ بینک روشن ڈجیٹل اکانٹس کو سرمایہ کار دوست رکھنے کے حوالے سے پالیسی، ضوابط، کاروبار اور ٹیکسیشن کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔








