اسلام آباد ۔ 18 اکتوبر (اے پی پی) زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے حکومت موثر حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے، حکومت پاکستان نے زیرو ہنگر پروگرام (زیڈ ایچ پی) اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کو سنجیدگی سے لیا ہے جس کے حصوں کیلئے سخت محنت سے کام کرنے کی ضرورت ہے، بلوچستان میں زرعی شعبہ کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود پر خصوصی …
وفاقی وزیر سکندر حیات خان بوسن کا سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 اکتوبر (اے پی پی) زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے حکومت موثر حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے، حکومت پاکستان نے زیرو ہنگر پروگرام (زیڈ ایچ پی) اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کو سنجیدگی سے لیا ہے جس کے حصوں کیلئے سخت محنت سے کام کرنے کی ضرورت ہے، بلوچستان میں زرعی شعبہ کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، بلوچستان میں مزید ایک ہزار کاشتکاروں کو تربیت دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے بلوچستان ایگریکلچر ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے اختتام سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں یو ایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹر مسٹر جان گروگ، عالمی ادارہ خوراک (ایف اے او) کے پاکستان میں نمائندہ پٹرک ٹی ایون اور یو ایس ایڈ کے کنٹری ڈائریکٹر بھی شریک تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سکندر حیات خان بوسن نے کہا کہ بلوچستان ایگریکلچر ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا مقصد بلوچستان میں زرعی شعبہ کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود ہے۔








