ہزاروں یہودی آباد کار وں نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہو کر تلمودی رسومات ادا کیں، اردن کی مذمت

ہزاروں یہودی آباد کار جمعرات کو قابض اسرائیلی فورسز کی سخت سکیورٹی حصار میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں گھس گئے اور وہاں تلمودی رسومات ادا کیں۔القدس گورنریٹ کے مطابق یہودی آباد کاروں نے ہیکل سلیمانی کی تباہی کی یاد منانے کے موقع پر مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں گھس آئے ۔

مقبوضہ بیت المقدس۔23جولائی (اے پی پی):ہزاروں یہودی آباد کار جمعرات کو قابض اسرائیلی فورسز کی سخت سکیورٹی حصار میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں گھس گئے اور وہاں تلمودی رسومات ادا کیں۔القدس گورنریٹ کے مطابق یہودی آباد کاروں نے ہیکل سلیمانی کی تباہی کی یاد منانے کے موقع پر مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں گھس آئے ۔

قابض اسرائیلی فورسز نے اس موقع پر مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کے داخلے پر سخت پابندی عائد کر دی۔ مرکز اطلاعات فلسطین اور الجزیرہ کے مطابق القدس گورنریٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ قابض فورسز نے مسجد اقصیٰ کے دروازوں پر اور قدیم شہر کے گرد و نواح میں سخت اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک رہی ہیں اور بتایا کہ فجر کی نماز کے دوران بہت ہی محدود تعداد میں نمازی مسجد تک پہنچنے اور نماز ادا کرنے میں کامیاب ہو سکے، اس سے پہلے قابض فورسز نے متعدد شہریوں اور نمازیوں کو مسجد کے اندر جانے سے روکنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا۔

مسجد اقصیٰ کے مختلف صحنوں میں اس موقع پر قابض فورسز کی بھاری نفری تعینات رہی۔ القدس گورنریٹ کے مطابق یہودی آباد کار اپنی دراندازی کے دوران تلمودی رسومات ادا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں ’ٹفلین‘ کے پٹکے پہننا اور مسجد اقصیٰ کے مشرقی حصے میں نام نہاد ’مہاکاوی سجدہ‘ ادا کرنا شامل ہے، اس کے علاوہ بلند آواز میں ترانے اور دعائیں پڑھنا بھی شامل ہے جبکہ ہیکل نامی انتہا پسند گروپ اپنے حامیوں کو جمع کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں مسجد میں گھسنے والے یہودیوں کی تعداد کو پانچ ہزار یہودی آباد کاروں تک پہنچنے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔القدس گورنریٹ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی شناخت، تشخص یا اس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کے مقصد سے کیے جانے والے تمام اسرائیلی اقدامات غیر قانونی اور کالعدم ہیں۔

اردن نے اسرائیلی وزیر بن گویر دیگر حکام اور 2000 سے زیادہ آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دراندازی کی مذمت کی ہے۔اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان، سفیر فواد مجالی نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سائٹ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ عمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔

مزید خبریں