پاکستان کا وبائی امراض کے تباہ کن اثرات سے نمٹنے کے لیے ترقی پزیر ممالک میں تعاون کو فروغ دینے پر زور

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کو تیز کرنے پر زور دیا ہے تاکہ یہ ممالک مہلک کورونا وائرس وبائی امراض سے ہونے والی تصور سے بھی بالاتر تباہی کے اثرات سے نکل سکیں۔ اقوام متحدہ میں ڈپٹی مستقل نمائندہ سفیر عامر خان نے اقوام متحدہ کے دن کی ورچوئل تقریب میں کہا کہ پائیدار اجتماعی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں وبائی امراض …

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کو تیز کرنے پر زور دیا ہے تاکہ یہ ممالک مہلک کورونا وائرس وبائی امراض سے ہونے والی تصور سے بھی بالاتر تباہی کے اثرات سے نکل سکیں۔

اقوام متحدہ میں ڈپٹی مستقل نمائندہ سفیر عامر خان نے اقوام متحدہ کے دن کی ورچوئل تقریب میں کہا کہ پائیدار اجتماعی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں وبائی امراض ملکوں کے اندر اور ان کے درمیان عدم مساوات کو بڑھا سکتے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے مزید کہا کہ وبائی امراض کے اثرات ہمارے تصور سے بھی بالا ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک تقریبا 17 کھرب ڈالرز کے محرک اقدامات کی وجہ سے بحالی کی طرف آرہے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک نا سازگار حالات ،قرض لینے اور اپنی معیشتوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت نہ ہونےکی وجہ سے زیادہ غربت ، قرضوں اور کفایت شعاری جیسے اقدامات کی دلدل کا شکار ہو رہے ہیں۔

سفیر عامر خان نے کہا کہ وبائی بیماری کو صرف عالمی اور سرحد پار تعاون کے ذریعے شکست دی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخی 17 ٹریلین ڈالر کے 20 فیصد سے بھی کم بحالی فنڈز ترقی پذیر ممالک میں خرچ کیے گئے ہیں ، جس سے وہ بڑھتے ہوئے قرضوں سے دوچار ہیں جس سے ان کی صحت عامہ کے اقدامات اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت محدود ہو ئی ہے۔سفیر عامر خان نے جنوب-

جنوبی تعاون کے ذریعے ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی ، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی جنوب میں بہت سے ممالک نے ترقی پذیر معیشتیں بنائی ہیں اور اب وہ عالمی اقتصادی حرکیات کا زیادہ حصہ لے رہے ہیں۔ہم نے دنیا بھر میں تعاون کے ادارے بنائے ہیں اور ہمیں اس حقیقت پر فخر کرنا چاہیے کہ آسیان (ایسوسی ایشن آف ساو¿تھ ایسٹ ایشین نیشنز) ، اے آئی آئی بی (ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک) جیسے اداروں نے جنوبی-

جنوبی ایسے تعاون کو فروغ دیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی ۔ اس سلسلے میں ، انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو جنوبی جنوبی تعاون کی ایک روشن مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ منصوبوں کے فوائد سرحدوں سے ماورا ہیں ، اور اس کے تحت بننے والے خصوصی اقتصادی زون معاشی ترقی ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت کے خاتمہکے بے پناہ امکانات فراہم کرتے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے معیشتوں کی تعمیر ، صحت کے شعبے کو بہتر بنانے ، صحت سے متعلقہ مصنوعات اور خدمات میں علاقائی قدر کے سلسلے بنانے، خوراک کی حفاظت ، سماجی تحفظ کے نیٹ ، اور پانی تک رسائی اور معیار؛ رابطے کی سہولت؛ پائیدار اور لچکدار بحالی کو ترجیح د ینے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔

انہوں نے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے ذریعے گرین اور ڈیجیٹل بحالی کے حل فراہم کرنے اور دنیا کی دانشورانہ املاک حکومت کو پائیدار ترقی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر بھی زوردیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ویکسین عالمی عوامی بھلائی کی طرف پہلا قدم ہے۔ جب تک ترقی پذیر ممالک میں سہولیات کے ذریعے ویکسین کی پیداوار میں اضافہ نہیں کیا جاتا ہم عالمی طلب کو پورا نہیں کر سکیں گے

۔سفیر خان نے ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ جدید معیشتوں میں منتقلی اور تمام شعبوں میں ترقی کا راستہ ہے۔تقریب میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا کوویڈ 19 کے ردعمل اور بحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے وجودی خطرے سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے اس لئے اب جنوب-جنوبی اور سہ رخی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔

انہوں نے کوویڈ ۔-19 وبائی مرض کو دنیا کو درپیش سب سے پیچیدہ فوری چیلنج قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ایسے مشکل وقتوں میں ، "یکجہتی جو جنوبی جنوبی تعاون کو فروغ دیتی ہے ایک بار پھر ترقی پذیر ممالک کے لیے اہم ثابت ہوئی ہے۔

اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بوزکیر نے کہا کہ دنیا کو ان ترقی پذیر ممالک کو کوویڈ 19 وبائی مرض کی تباہ کاریوں کے اثرات سے نکلنے میں مزید مدد کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں جنوبی جنوبی تعاون اہم کردار ادا کرتا ہے۔