سٹیٹ بینک کی کارپوریٹ ادائیگیاں ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت

کراچی۔15اکتوبر (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے کارپوریٹ شعبے میں ادائیگیوں اور وصولیوں کی ڈجیٹائزیشن کے لیے اپنے دائرہ کار میں آنے والے اداروں بشمول بینکوں، مائیکروفنانس بینکوں، پیمنٹ سسٹم آپریٹرز اور پیمنٹ سسٹم پرووائیڈرز کے لیے لازمی قرار دے دیا ہے کہ وہ کاروباری اداروں کو اپنی رقوم بھیجنے اور وصول کرنے کے لیے اپنے کارپوریٹ کلائنٹس کو ادائیگیوں کا ڈیجیٹل طریقہ فراہم کریں۔ جمعہ کو جاری اعلامیہ کے …

کراچی۔15اکتوبر (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے کارپوریٹ شعبے میں ادائیگیوں اور وصولیوں کی ڈجیٹائزیشن کے لیے اپنے دائرہ کار میں آنے والے اداروں بشمول بینکوں، مائیکروفنانس بینکوں، پیمنٹ سسٹم آپریٹرز اور پیمنٹ سسٹم پرووائیڈرز کے لیے لازمی قرار دے دیا ہے کہ وہ کاروباری اداروں کو اپنی رقوم بھیجنے اور وصول کرنے کے لیے اپنے کارپوریٹ کلائنٹس کو ادائیگیوں کا ڈیجیٹل طریقہ فراہم کریں۔

جمعہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق اپنے حالیہ سرکلر میں اسٹیٹ بینک نے اپنے دائرہ کار میں آنے والے اداروں سے کہا ہے کہ وہ کارپوریشنز، کمپنیوں اور شراکت داریوں سمیت اپنے ادارہ جاتی کلائنٹس کو ڈیجیٹل طریقوں کے ذریعے بڑی رقوم کی ادائیگی کی سہولت مہیا کریں۔

اب اسٹیٹ بینک کے دائرہ کار میں آنے والے اداروں پر لازم ہے کہ وہ کارپوریٹس کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور وصولیوں کے آن لائن پورٹلزپلیٹ فارمز فراہم کریں جن میں آن لائن انٹربینک فنڈ ٹرانسفر سروسز، آن لائن بلانوائس شیئرنگ اور ادائیگی کی سہولتیں جیسے اوور دی کانٹر ڈجیٹل پیمنٹس سروسزسہولتیں، پوائنٹ آف سیلز ٹرمنلز کے استعمال کے ذڑیعے کارڈ کی ادائیگیاں، کیو آر کوڈز، موبائل آلات، اے ٹی ایمز، کیوسک یا کوئی اور ڈجیٹل ادائیگی کرنے والے آلات شامل ہیں۔

ان ہدایات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اسٹیٹ بینک نے بینکوں سے کہا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر ان اقدامات پر عملدرآمد کا روڈ میپ جمع کرائیں۔ بینکوں کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ اس بارے میں اسٹیٹ بینک کو سہ ماہی رپورٹیں جمع کرائیں کہ کاروباری اداروں کی کتنی تعداد کو انہوں نے ادائیگیوں اور وصولیوں کی ڈجیٹائزیشن کی سہولت فراہم کی۔اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ ان اقدامات سے ویلیو چینز کی دستاویزیت بڑھے گی اور کاروباری اداروں کو اپنی بڑی رقوم کی لین دین کا انتظام کرنے میں مدد ملے گی۔

اس اقدام سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے کاروباری اداروں کو ایف بی آر سسٹم سے منسلک کرنے اور ڈجیٹل ذرائع سے کارپوریٹ ادائیگیوں سے متعلق حالیہ متعارف کردہ اقدامات کے نفاذ میں بھی سہولت ملے گی۔

اسٹیٹ بینک کے دائرہ کار میں آنے والے اداروں کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ ڈجیٹل ادائیگیوں کو ممکن بنانے کے لیے نان کارپوریٹ اداروں بشمول سول پروپرائیٹرز، ایس ایم ایز اور ایم ایس ایم ایز کو آن بورڈ لینے کی بھرپور کوشش کریں۔ یہ اقدام پاکستان میں ڈیجیٹائزیشن کو فروغ دینے کے اسٹیٹ بینک کے دیگر حالیہ اقدامات کے بعد کیا گیا ہے،

جن میں مقیم پاکستانیوں کے بینک اکائونٹس ڈجیٹل طور پر کھولنے کے لیے کسٹمرز ڈیجیٹل آن بورڈنگ فریم ورک کا اجرا شامل ہے، اسی کے علاوہ بینکوںمائیکروفنانس بینکوں میں ڈیجیٹائزیشن بڑھانے کے اقدامات کے لیے ہدایات کا اجرا جس کا مقصد بینکاری شعبے میں ڈجیٹائزیشن کو فروغ دینا اور ڈجیٹل چینلز کے استعمال کی حوصلہ افزائی ہے۔

آلٹرنیٹو ڈلیوری چینلز پر بینکوں سے قرض لینے والوں کو رقم کی واپسی کی سہولت کی فراہمی، پیمنٹ کارڈ سیکورٹی کے امور کو ہموار کرنا تاکہ صارفین کو رسک کوریج کی سہولت مل سکے جو ارتقا پذیر پیمنٹ کارڈ مارکیٹس اور بین الاقوامی معیارات کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔

پاکستان کے پہلے فوری ادائیگی نظام راست کا اجرا، جو اسٹیٹ بینک کا ایک اقدام ہے۔سٹیٹ بینک نے ملک میں ڈجیٹائزیشن کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں اور ان جاری اقدامات سے متوقع طور پر صارفین کے لیے سہولت میں اضافہ ہوگا اور وہ پاکستان میں محفوظ اور تیز رفتار ڈجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے اپنی مالی ضروریات پوری کرسکیں گے۔

مزید خبریں