"فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان کے جائز آبی حقوق کے تحفظ اور ملک کے حصے کے پانی کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری اقدام کے عزم کا اظہار کیا گیا۔”
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس ، پاکستان کے جائز حصے کے پانی کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کے عزم کا اظہار

مزید خبریں
راولپنڈی۔6جولائی (اے پی پی):چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام اسی صورت ممکن ہے جب افغان طالبان رجیم کے زیر کنٹرول علاقوں کو بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے استعمال سے روکا جائے، حکومت پاکستان کی ہدایات اور عوامی امنگوں کے مطابق پاکستان کے جائز حصے کے پانی کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)سے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں منعقد ہونے والی 276 ویں کور کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کی۔فورم نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بے گناہ شہریوں کے شہداء کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور استحکام کی بنیاد ہیں۔ فورم نے ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور پاکستان کی مسلح افواج کی آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور جنگی استعداد پر اطمینان کا اظہار کیا۔فورم نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ افغان طالبان رجیم کے زیر کنٹرول علاقوں کو بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ جن میں فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان شامل ہیں، پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ فورم نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام اسی صورت ممکن ہے جب افغان طالبان رجیم کے زیر کنٹرول علاقوں کو بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے استعمال سے روکا جائے جس کی براہ راست ذمہ داری افغان طالبان رجیم پر عائد ہوتی ہے۔ فورم نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو اپنے عوام کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کا واضح حق حاصل ہے اور مسلح افواج آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔فورم نے عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اس امر پر بھی زور دیا کہ شورش زدہ علاقوں میں فوری طور پر مضبوط حکومتی ڈھانچے قائم کیے جائیں جو عوامی خدمت اور فلاح و بہبود پر مبنی ہوں اور سیاسی سرپرستی میں پروان چڑھنے والے دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ کریں۔فورم نے اس بات کا نوٹس لیا کہ معرکہ حق میں دشمن کو جامع شکست کے بعد پاکستان کے خلاف بیرونی حمایت یافتہ ہائبرڈ وارفیئر اور گمراہ کن معلومات (ڈس انفارمیشن) کی مہمات میں اضافہ ہوا ہے تاکہ ملک میں بے چینی اور عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔ فورم نے ریاستی سرپرستی، مالی معاونت یا سہولت کاری کے ذریعے پراکسی عناصر کی حمایت کی شدید مذمت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہائبرڈ حربوں اورہر کوشش کا واضح حکمت عملی اور مضبوط عزم کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا۔خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے فورم نے مکالمے، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے فروغ میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔ فورم نے تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی قانون کے احترام اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔فورم نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارتی بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے 24 اپریل 2025ء کی قومی سلامتی کمیٹی کی ہدایات کی توثیق کی۔ فورم نے حکومت پاکستان کی ہدایات اور عوامی امنگوں کے مطابق پاکستان کے جائز حصے کے پانی کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔فورم نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور یکطرفہ آبادیاتی تبدیلیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ فورم نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ خطے میں حقیقی اور پائیدار استحکام کا انحصار کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینے پر ہے۔اپنے اختتامی کلمات میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کورکمانڈرز کو ہدایت کی کہ جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کے مطابق کثیرالجہتی (ملٹی ڈومین) تبدیلی کے منصوبے پر تیزی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کمانڈرز ہر سطح پر اعلیٰ ترین معیار کی چوکسی، آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت برقرار رکھیں اور روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات کے خلاف مربوط ردعمل کو یقینی بناتے ہوئے ہر قیمت پر پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا تحفظ کریں۔








