چین کی جوہری صلاحیت کے حامل ہائپرسونک میزائل کے تجربے سے متعلق رپورٹس کی تردید

بیجنگ۔19اکتوبر (اے پی پی):چین نے جولائی میں جوہری صلاحیت کے حامل ہائپرسونک میزائل کے تجربے کرنے سے متعلق رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے خلائی جہازوں کی معمول کی جانچ کی تھی۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے تخفیف اسلحہ کے سفیررابرٹ ووڈ نے پیر کو جنیوا میں ایک بیان میں کہا کہ ان کے ملک کوچین کے اگست میں جوہری صلاحیت کے حامل …

بیجنگ۔19اکتوبر (اے پی پی):چین نے جولائی میں جوہری صلاحیت کے حامل ہائپرسونک میزائل کے تجربے کرنے سے متعلق رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے خلائی جہازوں کی معمول کی جانچ کی تھی۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے تخفیف اسلحہ کے سفیررابرٹ ووڈ نے پیر کو جنیوا میں ایک بیان میں کہا کہ ان کے ملک کوچین کے اگست میں جوہری صلاحیت کے حامل ہائپرسونک میزائل کے ممکنہ تجربے سے متعلق اطلاعات پربہت زیادہ تشویش لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائپرسونک ٹیکنالوجی کے بارے میں ہم بہت فکرمند رہے ہیں، ہم نے اس ٹیکنالوجی پرکام روک دیا ہے اور ہم اس ٹیکنالوجی کے فوجی مقاصد کے اطلاق پربھی کسی مزید پیش رفت سے باز آچکے ہیں۔

جس پر چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ چین نے جولائی میں جوہری صلاحیت کے حامل ہائپرسونک میزائل کا تجربہ نہیں کیا تھا، وہ اس سے متعلق خبروں کی تردید کرتا ہے اورواضح کرتا ہے کہ اس کے بجائے اس نے خلائی جہازوں کی معمول کی جانچ کی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ خلائی جہاز کی قابل استعمال ٹیکنالوجی کی تصدیق کے لیےخلائی گاڑی کا یہ معمول کا تجربہ تھاجس کا مقصد اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ استعمال کی لاگت میں کیا کمی واقع ہوتی ہے اور بنی نوع انسان کی خلا میں دوطرفہ نقل وحمل کے لیے اس گاڑی کا استعمال ایک آسان اورسستے ذریعے کے طور پرکس قدراہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔

ترجمان ژائو لی جیان نے کہا کہ دنیا بھرکے متعدد ممالک نے بھی ماضی میں اسی طرح کے تجربات کیے ہیں۔فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر انھوں نے یہ بات زوردے کرکہی کہ یہ ہائپرسونک میزائل نہیں بلکہ خلائی گاڑی تھی اورہائپرسونک میزائل کے تجربے سے متعلق رپورٹس بے بنیاد ہیں ۔

روایتی بیلسٹک میزائلوں کی طرح ہائپر سونک میزائل بھی آوازکی رفتارسے پانچ گنا زیادہ تیز پرواز کرسکتے ہیں لیکن وہ بیلسٹک میزائل سے زیادہ کارگرہوتے ہیں اور انھیں فضا میں صرف محدود راستے کی ضرورت ہوتی ہے جس سےان کا دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اس معاملے سے آگاہ پانچ بے نام ذرائع کے حوالے سے ہفتے کو خبر دی تھی کہ چین نے ایک ہائپرسونک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔اس نے لینڈنگ سے قبل سیارے کے گردایک چکرمکمل کیا تھاجس سے اس کا ہدف غائب ہوگیا تھا۔