اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے آج نظرثانی شدہ کارپوریٹ گورننس ریگولیٹری فریم ورک جاری کردیا جس کا مقصد بینکوں اور ترقیاتی مالی اداروں کے کارپوریٹ گورننس نظام کو مزید مستحکم کرنا اور اسے بین الاقوامی معیارات اور بہترین روایات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ یہ فریم ورک، جسے اہم سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے، ’فٹ اینڈ پراپر ٹیسٹ‘ (ایف پی ٹی) کے معیار …
سٹیٹ بینک نے بینکوں اور ترقیاتی مالی اداروں کے لیے کارپوریٹ گورننس ریگولیٹری فریم ورک مستحکم کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے آج نظرثانی شدہ کارپوریٹ گورننس ریگولیٹری فریم ورک جاری کردیا جس کا مقصد بینکوں اور ترقیاتی مالی اداروں کے کارپوریٹ گورننس نظام کو مزید مستحکم کرنا اور اسے بین الاقوامی معیارات اور بہترین روایات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
یہ فریم ورک، جسے اہم سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے، ’فٹ اینڈ پراپر ٹیسٹ‘ (ایف پی ٹی) کے معیار اور کارپوریٹ گورننس کے دیگر ضوابطی تقاضوں کا احاطہ کرتا ہے جس پر بینکوں اورترقیاتی مالی اداروں کے سپانسر شیئر ہولڈرز اور استفادہ کنندہ مالکان، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان، صدور اور سی ای اوز اور اہم ایگزیکٹوز کو پورا اترنا ہے۔
کارپوریٹ گورننس سے متعلق تمام موجودہ ضوابطی تقاضوں کو اس فریم ورک میں جمع کر دیا گیا ہے اور اسے معقول بنایا گیا ہے تاکہ سٹیک ہولڈرز کے لیے مستقل مزاجی، سمجھ بوجھ اور استعمال کو بہتر بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ اس نوعیت کی آخری ترامیم 2007 میں کی گئی تھیں۔ فریم ورک میں کی گئی دیگر تبدیلیوں میں بورڈ کے پاس اب اجتماعی طور پر بینک اور ترقیاتی مالی ادارے کے بزنس ماڈل،مجموعی حجم، پیچیدگی اور رسک پروفائل سے متعلق مناسب معلومات، تجربے اور مہارت کا ہونا ضروری شامل ہیں ۔
مزید برآں، بورڈ میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر ہونی چاہیے جو بینک یا ترقیاتی مالی ادارے کے کسی دوسرے ڈائریکٹر یا سپانسر شیئر ہولڈر کی فیملی میں سے نہ ہو اوریہ کہ صدر یا سی ای او کی زیادہ سے زیادہ عمر 70 سال سے کم کر کے 65 سال کر دی گئی ہے۔
تاہم عمر میں یہ تبدیلی نئے صدور یا سی ای اوز پر لاگو ہوگی۔ موجودہ صدور یا سی ای او اپنی عمر سے قطع نظر موجودہ مدت کی تکمیل تک برقرار رہیں گے اور 70 سال کی عمر تک ایک اور مدت کے لیے بھی انہیں زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔







