جدہ ۔30نومبر (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی فلسیطن کے تاریخی شہر الخلیل میں مسجد ابراہیمی کے دورےاور وہاں مذہبی رسومات ادا کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق او آئی سی نےایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی صدر کا مسجد ابراہیمی اور الخلیل شہر کا …
اسرائیلی صدر کا مسجد ابراہیمی کادورہ اور وہاں مذہبی رسومات ادا کرنا اشتعال انگیزی ہے، او آئی سی

مزید خبریں
جدہ ۔30نومبر (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی فلسیطن کے تاریخی شہر الخلیل میں مسجد ابراہیمی کے دورےاور وہاں مذہبی رسومات ادا کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق او آئی سی نےایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی صدر کا مسجد ابراہیمی اور الخلیل شہر کا متنازع دورہ کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا باعث بنا ہے۔
تنظیم نے اسرائیلی صدر کے دورے کو الخلیل اور مسجد ابراہیمی پر اسرائیلی قبضے کو وسعت دینے اور ان پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے حقوق، ان کی سرزمین اور ان کے مقدسات پر اسرائیلی دھائوں کی کوئی گنجائش نہیں۔
بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے مقدس مقامات اور تاریخی مقامات کی حفاظت کے لیے آگے آئے اورقابض اسرائیلی حکام کو مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرنے،
اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کرنے اور فلسطینی عوام، ان کی سرزمین اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔واضح رہے کہ گذشتہ اتوار کی شام اسحاق ہرزوگ نے ابراہیمی مسجد کادورہ کیاتھاجہاں انہوں نے قابض فوج کی سکیورٹی میں مقدس مقام میں گھس کر وہاں پر مذہبی رسومات ادا کیں۔
اس موقعے پر فلسطینی نمازیوں کو مسجد ابراہیمی اور پرانے الخلیل شہر میں داخلے سے روک دیا اورفلسطینی تاجروں سے زبر دستی دکانیں بند کرادیں تھیں۔








