اسلام آباد۔4جنوری (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے جولائی تا ستمبر2021ء (تیسری سہ ماہی2021ء) کے لیے سہ ماہی کمپینڈیم ( مجموعی خلاصہ ) بینکاری نظام کے اعدادوشمار جاری کر دیا۔ اس کمپینڈیم میں اہم مالی اعدادوشمار پر ڈیٹا کی جامع کوریج کے ساتھ شعبۂ بینکاری کی مالی صحت کے اظہار یئے بھی دیئے گئے ہیں۔ بینکوں کے علاوہ کمپینڈیم میں اسلامی بینکاری اداروں (آئی بی آئیز)، ترقیاتی مالی اداروں (ڈی …
اسٹیٹ بینک نے بینکاری کے اعدادوشمار پر سہ ماہی مجموعی خلاصہ جاری کر دیا، بینکاری شعبہ نے 2021 ء کی تیسری ماہی میں اپنی نمو کی رفتار کو برقرار رکھا

مزید خبریں
اسلام آباد۔4جنوری (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے جولائی تا ستمبر2021ء (تیسری سہ ماہی2021ء) کے لیے سہ ماہی کمپینڈیم ( مجموعی خلاصہ ) بینکاری نظام کے اعدادوشمار جاری کر دیا۔ اس کمپینڈیم میں اہم مالی اعدادوشمار پر ڈیٹا کی جامع کوریج کے ساتھ شعبۂ بینکاری کی مالی صحت کے اظہار یئے بھی دیئے گئے ہیں۔
بینکوں کے علاوہ کمپینڈیم میں اسلامی بینکاری اداروں (آئی بی آئیز)، ترقیاتی مالی اداروں (ڈی ایف آئیز) اور مائیکروفنانس بینکوں (ایم ایف بیز) کے جامع اعدادوشمار بھی دئیے گئے ہیں۔ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ بینکاری کے شعبے نے 2021 ء کی تیسری ماہی میں اپنی نمو کی رفتار کو برقرار رکھا۔ اس شعبے کے اثاثوں میں گذشتہ سہ ماہی (سال بہ سال ل بنیادوں پر20.9فیصد کی نمو) کے مقابلے میں 2.17فیصد اضافہ ہوا،
جو گذشتہ برس کی اسی مدت میں حاصل کی گئی نمو کے مقابلے میں0.44فیصد زیادہ ہے۔ اس توسیع میں خاص طور پر ملکی نجی شعبے کے قرضوں کا حصہ تھا، جن میں 2021ء کی تیسری سہ ماہی (16.6فیصد سال بہ سال اضافہ) میں3.8فیصد اضافہ ہوا،
جبکہ گذشتہ برس کی اسی مدت میں0.5فیصد تک کمی ہوئی تھی۔ فنڈنگ کے لحاظ سے سہ ماہی کے دوران ڈپازٹس میں0.36فیصد اضافہ ہوا جبکہ گذشتہ برس کی اسی مدت میں0.80فیصد نمو ہوئی تھی۔ ڈپازٹس میں سال بہ سال بنیادوں پر16.9فیصد کی حوصلہ افزا نمو ہوئی۔
قرضوں میں وسیع البنیاد نمو سے معاشی سرگرمی میں عمومی بحالی کی عکاسی کے ساتھ خام مال کی بلند قیمتوں کے اثر کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ نجی شعبے کو قرضے میں صحت مند نمو خاصی حوصلہ افزا ہے کیونکہ اس سے پاکستان میں قرضوں کی کم سطح میں اضافہ ہو گا، جس کی پیمائش ملکی نجی قرضے اور جی ڈی پی کے تناسب سے کی جاتی ہے۔
مزید برآں، کووڈ19 کے تناظر میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے اعلان شدہ ری فنانس اسکیموں، خصوصاً عارضی اقتصادی ری فنانس سہولت (ٹی ای آر ایف) سے گذشتہ چند سہ ماہیوں میں نجی شعبے کے قرضوں کی نمو کو تقویت مل رہی ہے۔ تاہم، بینکوں نے جولائی تا ستمبرسال 2021ء میں اپنے ذرائع سے قرضوں کی تقسیم میں اضافہ کر دیا ہے اور سہ ماہی کے بعد بھی یہی رجحان جاری ہے۔
تعمیرات اور مکانات کے قرضے بھی قابل ذکر شعبوں کی حیثیت سے ابھرے ہیں، جن میں قرضوں کے استعمال میں صحت مند نمو دیکھنے میں آ رہی ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے جولائی2020 ء میں مکانات کے قرضوں کے اہداف تفویض کیے اور اکتوبر2020ء میں ہاؤسنگ فنانس کے لیے اعلان کردہ حکومت پاکستان کے مارک اپ سبسڈی پروگرام (یعنی میرا پاکستان میرا گھر اسکیم) نے مکانات کے شعبے کو قرضوں کی مجموعی فراہمی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بینک ان سرگرمیوں میں مارگیج فنانس کو بڑھانے کے لیے فعال انداز میں شرکت کر رہے ہیں، جس سے آبادی کے بڑے حصے کو تعمیرات اور مکانوں کی خریداری میں سہولت ملے گی۔مالی صحت کے اہم اظہاریوں کے رجحانات حوصلہ افزا رہے۔
شعبۂ بینکاری کے خطرۂ قرض کے اظہاریوں میں مزید بہتری آ گئی اور خام غیر فعال قرضوں (این پی ایلز) اور مجموعی قرضوں کا تناسب آخر ستمبر2021ء میں کم ہو کر8.8 فیصد رہ گیا، جو ایک سال قبل 9.9 فیصد تھا۔ یہ بہتری قرضوں کی سطح میں اضافے اور ضابطے کی نئی خلاف ورزیوں میں کمی کے سبب ہوئی۔ این پی ایلز کی فراہمی میں اضافے کی وجہ سے سال2021ء کی تیسری سہ ماہی میں فراہمی کی اس کوریج کا تناسب بڑھ کر88.9 فیصد تک پہنچ گیا،
جبکہ ایک سال قبل یہ 84.6 فیصد تھا۔ لہٰذا، 2021ء کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر خالص این پی ایلز کا تناسب گر کر1.1 فیصد ہو گیا، جو سال2020ء کی تیسری سہ ماہی میں1.7فیصد تھا، جس سے نادہندہ قرضوں سے ادائیگی قرض کی صلاحیت کے کم کی نشاندہی ہوتی ہے۔
سال2021ء کی تیسری سہ ماہی میں شعبہ بینکاری کی آمدنی کے اظہاریوں میں کچھ اعتدال دیکھا گیا، کیونکہ 2021ء کی تیسری سہ ماہی میں اثاثوں پر منافع 0.95 فیصد تھا، جبکہ 2020ء کی تیسری سہ ماہی میں یہ 1.13 فیصد تھا۔ اس شعبے کی ادائیگی قرض کی صلاحیت مضبوط رہی ہے ، جبکہ شرح کفایت سرمایہ 17.9فیصد رہی جو 11.5فیصد کے کم از کم ملکی ضوابطی بینچ مارک اور 10.5 فیصد کے عالمی معیار سے کافی زیادہ ہے۔
دباؤ کی جانچ کے سہ ماہی نتائج سے بھی پتہ چلتا ہے کہ توسیع شدہ مدت میں معقول شدید معاشی دھچکوں کے باوجود بھی بینکاری شعبے کی مضبوط برقرار رہنے کا امکان ہے۔سہ ماہی کمپینڈیم اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ میں اس لنک پر دستیاب ہے۔








