اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے برآمدی آمدنی کی جلد وصولی کے ذریعے مارکیٹ میں زرمبادلہ رقوم کی آمد کو بہتر بنانے کی غرض سے زرمبادلہ کے ضوابط میں ترمیم کی ہے جس کے تحت ضروری ہے کہ برآمدکنندگان اپنی برآمدی آمدنی شپمنٹ کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ 120 کی مدت کے اندر لائیں۔ قبل ازیں ، برآمدکنندگان کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنی برآمدی آمدنی …
برآمدکنندگان برآمدی آمدنی کو شپمنٹ کی تاریخ کے120 دن کے اندر لائیں،سٹیٹ بینک

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے برآمدی آمدنی کی جلد وصولی کے ذریعے مارکیٹ میں زرمبادلہ رقوم کی آمد کو بہتر بنانے کی غرض سے زرمبادلہ کے ضوابط میں ترمیم کی ہے جس کے تحت ضروری ہے کہ برآمدکنندگان اپنی برآمدی آمدنی شپمنٹ کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ 120 کی مدت کے اندر لائیں۔ قبل ازیں ، برآمدکنندگان کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنی برآمدی آمدنی کو زیادہ سے زیادہ180 دن کی مدت کے اندر لائیں۔
اس اقدام سے پاکستان کے ضوابط بھی بہترین عالمی روایات کے قریب آ گئے ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ماضی قریب میں اسٹیٹ بینک برآمدکنندگان کو سہولت دینے کے لئے متعدد پالیسی اقدامات متعارف کرا چکا ہے جو یہ ہیں، برآمدکنندگان کو سالانہ برآمدات کے10فیصد تک بیرون ملک ایکویٹی میں سرمایہ کاری کی اجازت دینا تا کہ وہ اوورسیز ذیلی ادارہ/برانچ آفس قائم کر سکیں ۔
ایسے برآمد کنندگان جو اپنی ایکسپورٹ retention account سے بر آمدی آمدنی کے ایک حصے کو متعدد اضافی مقاصد میں ادائیگی کے لیے بیرون ملک رکھنے کے اہل ہیں، انہیں مارکیٹنگ اور پروموشن،ڈیزائن/پیٹرن کی خریداری، ویئرہاؤسنگ، مشاورتی خدمات وغیرہ کے لئے اس کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے، برآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات اپنی ویب سائٹوں سے براہ راست فروخت کرنےکے ساتھ ساتھ انہیں امیزون، ای بے، علی بابا سمیت بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹ مقامات سے فروخت کی اجازت کے ذریعے ای کامرس میں سہولت دینا، بیرونی خریدار کو براہ راست شپنگ دستاویزات کی ترسیل کے ذریعے برآمدات کی اجازت دینا، تا کہ انہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقتی بنایا جا سکے۔
یہ نیا اقدام مارکیٹ کی حرکیات اور زرِ مبادلہ مارکیٹ کی صورتِ حال کو پیشِ نظر رکھ کر متعارف کرایا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس تبدیلی سے مارکیٹ میں زرِ مبادلہ کی آمد پر اور نتیجتاً شرحِ مبادلہ کی حرکت پر مثبت اثر پڑے گا۔ اسٹیٹ بینک کی رائے ہے کہ لچکدار شرحِ مبادلہ نے شاک ابزاربر کے طور پر اپنا کردار مناسب طریقے سے ادا کیا ہے اور یہ بات اہم ہے کہ اس کے کردار کوبرآمدی آمدنی کی مضبوط وصولی سے تقویت حاصل ہو۔








