شام، افغانستان اور عراق میں امریکی فوج کے ہاتھوں شہریوں کا اندھا دھند قتل جنگی جرائم کا حصہ بن چکا ہے ، چین کا اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کے الزامات کا جواب

اقوام متحدہ ۔7فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے ژانگ جون نےامریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ کی طرف سے چین کے خلاف لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ شام، افغانستان اور عراق میں امریکی فوج کے ہاتھوں خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کا اندھا دھند قتل جنگی جرائم کا حصہ بن چکا ہے ۔ چینی خبر رساں …

اقوام متحدہ ۔7فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے ژانگ جون نےامریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ کی طرف سے چین کے خلاف لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ شام، افغانستان اور عراق میں امریکی فوج کے ہاتھوں خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کا اندھا دھند قتل جنگی جرائم کا حصہ بن چکا ہے ۔

چینی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے امریکی نشراتی ادارے کو انٹرویو میں کہاکہ امریکا نے ایک بار پھر چین پر الزامات لگائے ہیں اور بیجنگ سرمائی اولمپکس، سنکیانگ اور تائیوان جیسے مسائل پر غلط، غیر ذمہ دارانہ ریمارکس دیئے ہیں اور اس طرح کے بے بنیاد، سیاسی طور پر متعصبانہ الفاظ نے چین اور امریکا کےتعلقات میں شدید تناو پید اکردیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بیجنگ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں تقریباً 70 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے تقریباً 170 سرکاری نمائندوں نے شرکت کی جن میں 31 سربراہان مملکت یا حکومت، شاہی خاندانوں کے افراد، اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزید کئی ریاستی راہنماؤں نے تقریب میں شرکت کی اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان نے چینی صدر شی جن پنگ کو بیجنگ سرمائی اولمپکس کی شاندار کامیابی اور چینی عوام کو نئے قمری سال کی مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی راہنماوں کی یہ شرکت چین، بیجنگ سرمائی اولمپکس اور اولمپک موومنٹ کے لیے بین الاقوامی برادری کی بھرپور حمایت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اولمپک کھیلوں کو مسئلہ بنانے کی امریکی کوشش کو کوئی حمایت حاصل نہیں ہوئی اور اسے مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سنکیانگ میں "نسل کشی” کے بارے میں امریکا کی طرف سے بار بار بو لاگیا جھوٹ بے نقاب ہو چکا ہے اور وہاں کے تمام نسلی گروہوں کے لوگ پرامن، ہم آہنگی اور خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تائیوان چینی سرزمین کا ایک لازم و ملزوم حصہ ہے، تائیوان کے مسئلے کا تصفیہ چین کا اندرونی معاملہ ہے اور اس میں امریکا یا کسی دوسری بیرونی طاقت کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے کہاکہ تائیوان کا مستقبل ریاست ہائے متحدہ امریکا کی طرف تحفظ کی ضمانت کی بجائے قومی اتحاد میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو "تائیوان کی آزادی” کی قوتوں کی حوصلہ افزائی اور حمایت کرنا بند کر دینا چاہیے اور حقیقی’’ ون چائنا‘‘ پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ امریکا انسانی حقوق کا خیال رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن عملی طور پر امریکا کا رویہ اس کےبرعکس ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکا بندوق کے تشدد میں ڈوبا ہوا ہے اور اپنے لوگوں کو تحفظ کا کوئی احساس نہیں دے پارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شام، افغانستان اور عراق میں امریکی فوج کے ہاتھوں خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کا اندھا دھند قتل، پہلے ہی جنگی جرائم کا حصہ بن چکا ہے اور امریکہ کو سنگین سیاسی، اقتصادی، سماجی، سلامتی اور صحت عامہ کے مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں، امریکی سیاست دانوں کو ہر چیز پر امریکی بالادستی کی ذہنیت میں پھنسنے، اب بھی ذمہ داریوں کو کم کرنے، تصادم پیدا کرنے یا دوسرے ممالک کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے عوام کی آواز پر توجہ دینے اور اپنے مسائل خود حل کرنے کی ضرورت ہے۔سفیر نے کہا کہ یہ امریکا کے لیے میرا مشورہ ہے کہ مزید غلط راستے پر چلنے سے اجتناب کرے کیونکہ اس سے نہ صرف امریکا کو نقصان پہنچے گا بلکہ دوسرے ممالک اور پوری دنیا کے لیے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔